13 اکتوبر 2026 - 16:16
بحرینی انسانی حقوق کارکن: آل خلیفہ بحرین میں تشیع کو ختم کرنا چاہتا ہے

بحرینی سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن علی الفائز نے کہا ہے کہ درجنوں علمائے دین کی گرفتاری اور شیعہ عقائد و مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ بحرین میں شیعوں کے خلاف کارروائیاں محض ظلم و جبر تک محدود نہیں، بلکہ آل خلیفہ حکومت کا مقصد تشیع کو ختم کرنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن علی الفائز نے ’’جیل کی سلاخوں سے آگے، پابندیوں سے پرے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پریس کانفرنس کے موقع پر بحرین میں شیعوں اور تشیع کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شیعوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور تشیع کو ختم کرنے کے مقصد سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں علمائے دین، جن میں دینی مدارس کے اساتذہ اور سربراہان بھی شامل ہیں، کی گرفتاریاں، ذرائع ابلاغ میں جاری بیانیہ اور عدالتی کارروائیاں اس صورت حال کو بالکل واضح کر دیتی ہیں۔ شیعہ عقائد، فقہ جعفری، مذہبی شعائر اور معاشرے میں شیعوں کی جائز موجودگی کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ان کے خلاف ایک حقیقی جنگ جاری ہے۔

بحرینی سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن نے پریس کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کا انعقاد اس لیے کیا گیا ہے تاکہ بحرین کے شیعوں پر گزرنے والے حالات کو عالم اسلام اور بالخصوص انسانی و سیاسی حقوق سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے سامنے واضح کیا جا سکے۔

علی الفائز نے مزید کہا کہ بحرین کے عوام آج صرف ظلم و جبر کا سامنا نہیں کر رہے، بلکہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ان کے بقول، بحرینی عوام ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں جس کا مقصد اس قوم کو جڑ سے مٹا دینا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha