13 اکتوبر 2026 - 16:20
آذربائیجان کے سرکاری اسکولوں میں باحجاب طالبات اور اساتذہ کے داخلے پر پابندی؛ الہام علیئیف حکومت پر دوہرے معیار کے الزامات میں اضافہ

جمہوریہ آذربائیجان کے سرکاری اسکولوں میں لباس سے متعلق نئے ضابطوں کے نفاذ کے بعد باحجاب طالبات اور اساتذہ کو کلاسوں میں شرکت سے روکے جانے پر احتجاج بڑھ گیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر حکومت کا مقصد تعلیمی اداروں میں سیکولر اصولوں کا نفاذ ہے تو یہ پابندی اسلامی لباس تک محدود کیوں دکھائی دیتی ہے، جبکہ یہودی مذہبی علامتوں، مثلاً کیپا، کے معاملے میں مبینہ طور پر نرمی برتی جاتی ہے؟

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جمہوریہ آذربائیجان میں طلبہ کے لباس سے متعلق نئی ہدایات نے شہریوں کے مذہبی عقائد اور دینی شناخت میں حکومتی مداخلت کے حساس معاملے کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ستمبر 2026 میں منظور کی گئی ترامیم کے مطابق، ایسے لباس کے استعمال پر پابندی ہے جسے اسکول انتظامیہ کے نزدیک یونیفارم کی یکسانیت یا سرکاری تعلیم کے سیکولر اصول سے متصادم قرار دیا جائے۔ اگرچہ ضابطے میں حجاب کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا، لیکن زمینی اطلاعات کے مطابق اس کا اطلاق خاص طور پر باحجاب طالبات اور اساتذہ پر ہو رہا ہے، جنہیں تعلیمی اداروں میں داخلے اور کلاسوں میں شرکت کے حوالے سے سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

حجاب یا تعلیم کا حق؛ طالبات کو مشکل انتخاب پر مجبور کیا جا رہا ہے

اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جمہوریہ آذربائیجان کی آبادی کی بڑی اکثریت مسلمان ہے اور وہاں اثنا عشری شیعوں کی موجودگی کی گہری تاریخ ہے۔ اس معاشرتی پس منظر میں حجاب محض ظاہری لباس نہیں، بلکہ مذہبی عقیدے، خاندانی تربیت اور ثقافتی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔

اس تناظر میں طالبات کو اس تلخ انتخاب پر مجبور کرنا کہ وہ یا تو شرعی لباس ترک کریں یا تعلیم سے محروم ہو جائیں، بنیادی حقِ تعلیم اور آزادیِ ضمیر کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

سیکولرازم یا عوامی زندگی سے اسلامی شناخت کا خاتمہ؟

اس تنازعے کا بنیادی مسئلہ محض سیکولرازم کا اصول نہیں، بلکہ ناقدین کے نزدیک اس کی انتخابی اور جبری تشریح ہے۔ قانونی اصولوں کی عام تعریف کے مطابق، سیکولرازم کا مطلب مذہبی معاملات میں ریاست کی غیر جانب داری اور کسی عقیدے کو مسلط نہ کرنا ہے۔ تاہم، علییف حکومت کے ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ باکو میں اسی اصول کو عوامی زندگی سے اسلامی شناخت مٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اگر حکومت کا اصل مقصد واقعی اسکولوں میں لباس کی یکسانیت برقرار رکھنا ہے تو اسے یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ تعلیمی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو اپنی مذہبی پابندی ترک کرنے پر کیوں مجبور کیا جائے؟

مذاہب کے ساتھ برتاؤ میں دوہرے معیار کا الزام

یہ معاملہ دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ موازنے کے باعث مزید اہم ہو جاتا ہے۔ شہری حقوق کے کارکنوں کی متعدد اطلاعات اور دعوؤں کے مطابق، آذربائیجان کی یہودی برادری کے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں یہودی مذہبی ٹوپی، یعنی کیپا، پہننے کی اجازت ہے، جبکہ مسلمان لڑکیوں کو سر ڈھانپنے پر اسکولوں سے روکے جانے کا سامنا ہے۔

اگرچہ آذربائیجان کی حکومت قوانین کے یکساں نفاذ پر زور دیتی ہے، لیکن یہودی مذہبی علامتوں کے استعمال والے اسکولوں کی صورت حال پر وضاحت نہ ہونے سے دوہرے معیار کے شبہات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا باکو میں سیکولر قانون تمام مذاہب کے لیے یکساں ہے، یا اس کا بوجھ صرف مسلمان اکثریت کو اٹھانا پڑ رہا ہے؟

مذہبی شعائر پر پابندیاں؛ اسکولوں سے باکو کی سڑکوں تک

مذہبی شعائر کے ساتھ یہ کشمکش آذربائیجان کے اسکولوں تک محدود نہیں رہی۔ سنہ 2015 میں مذہبی عقائد کی آزادی کے قانون میں کی جانے والی ترامیم کے ذریعے پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا اور مذہبی علامات اور پرچموں کی عوامی نمائش کو عبادت گاہوں کی حدود تک محدود کر دیا گیا۔

اس قانونی صورت حال نے آذربائیجان میں محرم کے دوران امام حسین علیہ السلام کے عزاداری کے پرچم بلند کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کی۔ اس ملک کے اہلِ ایمان اور امام حسین علیہ السلام سے عقیدت رکھنے والوں کے لیے یہ ایک تکلیف دہ سوال ہے کہ شیعہ اکثریت والے ملک میں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت سے محبت کا اظہار قابلِ گرفت کیوں قرار پاتا ہے؟

مذہبی علامتوں پر دباؤ، مگر صیہونی علامتیں عوامی مقامات پر نمایاں

عوامی حلقوں میں یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہوتا ہے جب باکو کے عوامی اور سیاسی مقامات پر صیہونی ریاست کی علامتیں اور پرچم کھلے عام دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان پر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

قانونی اعتبار سے کسی غیر ملکی ریاست کا پرچم اور کسی مذہبی رسم کی علامت دو الگ معاملات ہیں، لیکن عوامی سطح پر ان کا موازنہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اکثریتی آبادی کی مذہبی شناخت کی علامتوں کو پولیس کارروائیوں کے ذریعے ہٹایا جاتا ہے، جبکہ صیہونی علامتیں آذربائیجان کے عوامی مقامات پر بلا روک ٹوک دکھائی دیتی ہیں۔ ناقدین کے نزدیک یہ صورت حال حکومت کی غیر جانب داری کے دعوے پر سوال اٹھاتی ہے۔

مبہم قوانین اور طلبہ کے ساتھ من مانے برتاؤ کا خدشہ

شہری حقوق کے اصولوں کے مطابق، کسی بھی حکومتی فیصلے کو برابری، شفافیت اور امتیازی سلوک کی ممانعت جیسے اصولوں پر پورا اترنا چاہیے۔ اسکولوں کے لباس کی تشریح کا اختیار مقامی انتظامیہ کے حوالے کرنے سے من مانے فیصلوں، غیر ضروری سختی اور قانون سے تجاوز پر مبنی کارروائیوں کا راستہ کھل سکتا ہے۔

اس صورت حال میں کسی بچے کو مبہم قانونی تشریحات اور تعلیمی حکام کے غیر شفاف فیصلوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔

مذہبی امتیاز کا خاتمہ؛ آذربائیجان کے دیندار عوام کا مطالبہ

آخرکار، جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب کا معاملہ اسکولوں کے لباس سے متعلق انتظامی تنازعے سے آگے بڑھ کر حکومت اور معاشرے کی مذہبی شناخت کے درمیان ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ علییف حکومت کی پالیسیوں کے ناقدین ان پابندیوں کے سلسلے کو مذہبی امتیاز کی ایک شکل اور دیندار طبقے پر منظم دباؤ قرار دیتے ہیں۔

آذربائیجان کے دیندار عوام کا مطالبہ ہے کہ دوہرے معیار کا خاتمہ کیا جائے، باحجاب طالبات کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور ایسی پالیسیوں کو ختم کیا جائے جو اکثریتی آبادی کے مذہبی عقائد اور شعائر کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha