خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عبرانی زبان کے اخبار ہاآرتض نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی یونیورسٹی کے بعض اساتید اور معلمین نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کے ساتھ باہمی تعلیمی تعاون کے معاہدے کو منسوخ کیا جائے۔
اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ ٹزیپی ہاٹوولی ( Tzipi Hotovely) نے گزشتہ مئی کے مہینے میں میانمار کے ساتھ ایک تعلیمی تعاون معاہدے پر دستخط کیا تھا۔
اس معاہدے کے مطابق، اسرائیل اور میانمار اپنے اپنے اسکولوں اور کالجوں کے درسی متون کو مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں اور اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی کتابوں میں ایک دوسرے کے مضامین کو منتشر کریں۔
اعتراض کرنے والے اساتید نے نیتن یاہو کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ میانمار پر حاکم نظام حکومت نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے اور بشریت کے خلاف جنگی جرائم انجام دے رہا ہے ایسے میں اسرائیل کے درسی متون میں اس جرائم پیشہ ملک کی مداخلت قابل قبول نہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور میانمار کے درمیان عسکری ٹریننگ اور جنگی ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے میدان میں بھی باہمی تعاون جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲