اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صنعا کے مشرق میں واقع علاقے نہم میں غولہ الحنشات پر تین بار بمباری کی جس میں ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح صنعا کے مغرب میں بین مطر نامی علاقے کو بھی کئی بار جارحیت کا نشانہ بنایا۔ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے شمالی یمن میں صعدہ کے علاقوں پر بھی متعدد بار حملہ کیا۔
سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی مغربی ساحل اور اسی طرح جیزان کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی طرح جیزان میں سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اعلان کیا ہے کہ پیر کی رات جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں واقع آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات پر میزائل سے حملہ کیا گیا۔
اس سے قبل یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا تھا کہ جب تک یمن پر جارحیت اور اس کا محاصرہ جاری ہے جارح ملکوں کی اقتصادی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔
یمن کے مکمل محاصرے کے باوجود اس ملک کی فوج اورعوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب، یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا کر اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔
یمن کے شہریوں نے منگل کو صوبہ لحج میں آل سعود کے وحشیانہ مظالم کے خلاف مظاہرہ کیا اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے خلاف نعرے لگائے۔
یمن میں انسانی حقوق کی معروف کارکن اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی خاتون توکل کرمان نے ایک ویڈیو جاری کر کے کہا ہے کہ صوبہ لحج کے باشندے، یمن سے سعودی عرب کی فوج اور اس کے اتحادیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہیں-
اس درمیان یمن میں جارح قوتوں کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کرنے والی کمیٹی نے ایک بیان جاری کر کے یمنی عوام سے کہا ہے کہ وہ بدھ کو ہونے والے مظاہروں میں جس کا سلوگن ،بچوں کے قاتلوں پر مقدمہ چلانا دینی فریضہ ہے، بڑے پیمانے پر شرکت کریں-
سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے گذشتہ نو اگست کو یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے ضحیان شہر میں اسکولی بچوں کی بس پر حملہ کر کے پچپن معصوم بچوں کو شہید اور تقریبا اسّی دیگر کو زخمی کر دیا تھا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲