18 اگست 2018 - 16:49
آرٹیکل  35-Aریاستی عوام کے تشخص وتحفظ  کا ضامن ہے، اس کا دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری: آغا سید حسن

سینئر حریت رہنما نے آرٹیکل 35-A کے حوالہ سے بھارت کی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت مقدمہ کی طرف اشارہ کرے ہوئے اس آرٹیکل کو ریاستی عوام کے تشخص اور تحفظ کا ضامن بتایا اور اس کے دفاع کو ریاستی عوام کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور اس آرٹیکل کے خلاف سازش رچنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ وہ آگ سے کھیلنا چھوڑ دیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے زیراہتمام اندر کوٹ سونا واری میں ایک عظیم الشان مجلس ِ حسینی منعقد کی گئی جس میں وادی کشمیر کے گوشے گوشے سے  دسیوں ہزار عاشقان ِ سرکار ِ سید الشہداء ؑؑ نے  شرکت کی اور امام ِزمانہ (عج)  کو آپ کے جدِ امجد کا پرسہ پیش کیا ، اس مجلس میں انجمن شرعی  شیعیان کے نامور ذاکرین  نے اپنے مراثی کے ذریعہ امام ِ مظلوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا ، اس مجلسِ حسینی سے انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے صدر اور سینئر حریت رہنما  جناب آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے خطاب کیا ، موصوف نے اپنے  پرجوش خطاب میں حضرت امام حسین ؑ کی سیرت اور واقعہ کربلا کے مختلف گوشوں پر مفصل روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ واقعہ کربلا کا پیغام آفاقی حیثیت رکھتا ہے جو تاریخ کے ہر دور میں مظلوم  اور ستم دیدہ اقوام کے لئے مشعل ِ راہ ہے ، دنیا میں جہاں بھی  ظلم کے خلاف کوئی تحریک   چلی ہے کربلا اس کی روحِ رواں ہے، اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا ، سینئر حریت رہنما نے اپنے خطاب میں واقعہ کربلا کو تاریخِ اسلام  کا وہ سنہری باب بتایا جس کے بغیر اسلامی تاریخ نامکمل اور ادھوری ہے ، موصوف نے اس بات پر تاکید کی کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک مشن اور تحریک ہے  جو صبحِ قیامت تک جاری وساری رہے گی ، کربلا ،مظلوموں کو باطل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا عزم وحوصلہ عطا کرتی ہے ۔ آغا صاحب نے ایام حج اور عید الضحیٰ کی  مناسبت سے اظہارِخیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حج کے تمام ارکان امت مسلمہ کو ایثار ، قربانی ، مواسات اور مواخات  کادرس دیتے ہیں ، حج کا فلسفہ یہی ہے کہ ہم میں ایثار وقربانی نیز مواسات ومواخات کا جذبہ پیدا ہو ، ہم اپنی نفسانی خواہشات پر خدا کی مرضی کو مقدم رکھیں، حج کا اصلی فلسفہ، پروردگار عالم کا تقرب اور تقویٰ کا حصول ہے ۔ موصوف نے عید کے موقع پر کشمیر کے  کمزور طبقات اور  تحریک کے شہداء کے  گھرانوں کا  خصوصی خیال رکھنے پر زور دیا اور کشمیر ی قوم کی ستر سالہ تحریک ِ مزاحمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس تحریک کے شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان شہداء کی قربانیوں نے  اس تحریک کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے ، سینئر حریت رہنما نے آرٹیکل 35-A کے حوالہ سے  بھارت کی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت مقدمہ  کی طرف اشارہ کرے ہوئے اس آرٹیکل کو ریاستی عوام کے تشخص اور تحفظ کا ضامن بتایا اور اس کے دفاع کو ریاستی عوام کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور اس آرٹیکل کے خلاف سازش رچنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ وہ آگ سے کھیلنا چھوڑ دیں   ۔درین  اثناآرٹیکل  35-Aکے حق میں انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے اہتمام سے وادی کے مختلف مقامات پر نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد  شدید مظاہرے کئے گئے جن  کے شرکاء نے اس آرٹیکل کے حق میں شدید نعرہ  بازی  کی ، اس سلسلہ کا سب سے بڑا مظاہر ہ اندرکوٹ سونا واری  میں ہوا جس کی قیادت صدر انجمن شرعی شیعیان  وسینئر حریت رہنما آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کی ، اس کے علاوہ  حسن آباد سرینگر ، بڈگام اور ماگام میں بھی ائمہ جمعہ کی قیادت میں  آرٹیکل  35-Aکے حق میں مظاہرے کئے گئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲