28 جولائی 2018 - 18:28
مسٹر ٹرمپ! مجھ سے بات کرو؛ یاد تو ہے جب تم ہم سے اپنے سپاہیوں کی جان بخشی کی بھیک مانگ رہے تھے

جنرل سلیمانی نے ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹر دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہم تمہارے تصور سے کہیں زیادہ تمہارے قریب ہیں؛ یاد رہو تمہار فریق مقابل میں ہوں، اور سپاہ قدس ہے نہ کہ ہماری مسلح افواج؛ تم تو جانتے ہو کہ غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) میں ایران کی قوت کس قدر عظیم ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس کور کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمنانی نے ہمدان میں "رمضان آپریشن" کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، شہدا کی برکت سے ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ انجام بخبر ہوجائیں۔

جنرل سلیمانی کے خطاب کے اہم نکات:

٭ خدائے متعال نے ہمیں موقع دیا ہے کہ دین اسلام کا دفاع کریں اور اس کا سرچشمہ امام خمینی (قدس سرہ) اور امام خامنہ ای (مدظلہ العالی) کی قیادت اور راہنمائی ہے۔

٭ ہم امریکہ کے خلاف صدر روحانی کے قابل قدر موقف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں؛ ہمارے عزیز اور قابل قدر صدر نے ملت ایران کے قلب اور ضمیر سے بہت واضح اور آشکار الفاظ ادا کئے۔

٭ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ ان الفاظ کو کمزور اور ان کے خلاف کچھ الفاظ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو ایک غلط روش ہے۔

٭ صدر کے الفاظ دشمن کے نفسیاتی ادب کے مد مقابل بیان ہوئے اور یہ الفاظ قوم کو یکجہتی، شجاعت اور اتحاد عطا کرتے ہیں اور ہمارے معاشرے کو بہادر بنا دیتے ہیں؛ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ امام خمینی(قدس سرہ) نے شاہ زدہ معاشرے کے کیا عطا کیا؟ انھوں نے القائی اصول اور القائی تربیت کو سنجیدگی سے لیا اور اس کے تربیتی آثار کثیر تھے۔

٭ ہمارے صدر کا شجاعانہ اور باعث افتخار بیان بہت زیادہ مؤثر تھا اور جو اس روش اور اس بیان کو کمزور کرنا چاہے وہ خائن ہے؛ امریکی صدر نے اپنے ٹویٹر بیان میں ہمارے عزیز صدر کے جواب میں نہایت پسند باتیں بیان کی ہیں اور ان بےوقعت الفاظ کا جواب دینا اسلام کے عظیم ملک کے صدر کے شایان شان نہیں ہے۔

٭ میں اس ملت کے ایک سپاہی کی حیثت سے ٹرمپ کا جواب دیتا ہوں: "مسٹر ٹرمپ! تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ ہمیں دھمکی دے رہے ہو؟"

٭ امریکی صدر ایک رفاص خانے کے سرغنے کے لب و لہجے میں دنیا کے ممالک سے خطاب کرتا ہے جو باعث افسوس ہے؛ امریکی صدر کی صدارت سے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس کا لب و لہجہ ابھی تک رقاص خانے اور جوا خانے کا لب و لہجہ ہے؛ وہ جب یورپی ممالک، چین، روس، کوریا اور دنیا بھر کے مقابلے سے مخاطب ہوکر بات کرتا ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ گویا کہ ایک جوا باز بول رہا ہے، اور اس کا مطلب "ایک ملک کی شان کو توڑ کر رکھنا"۔

٭ امریکی صدر کہتا ہے کہ "میں ایران کے ساتھ ایسا سلوک کروں گا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہ ہوگی" اور میں اس سے کہتا ہوں: "ماضی میں تو تمہارا کوئی پس منظر نہیں ہے، تمہاری سوچ بھی "دوسری چیزوں" میں مصروف ہے، تمہاری سوچ اتنی بھی نہیں ہے کہ کسی بات کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھ لو؛ کم از کم اپنے جاسوسی اداروں سے پوچھ لو تا کہ وہ تمہیں بتا دیں کہ تم سے پہلے بھی کوئی ایران کے خلاف کچھ نہيں کرسکا ہے۔

٭ مسٹر ٹرمپ پہلے پوچھ لو، تحقیق کرو تا کہ نادانستگی میں کوئی لفظ اپنی زبان پر جاری نہ کرو؛ حالیہ 20 برس کے عرصے میں تمہارا ملک ایسا کونسا عمل ہمارے خلا انجام دے سکتا تھا، جو اس نے انجام نہ دیا ہو؟ تمہاری ایجنسیاں تمہیں بتا دیں گی کہ اس پورے عرصے میں کامیابی ملت ایران کے قدم چومتی رہی ہے۔

٭ امریکہ جب 110000 فوجی نفری، ہزاروں ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں، فوجی سازوسامان، سینکڑوں جنگی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کمزور اور کم وسائل کی حامل جماعت "طالبان" پر حملہ کیا لیکن کچھ بھی نہیں کرسکتا، امریکہ نے شادیوں کو سوگواریوں میں بدل دیا، دیہاتوں اور شہروں کو خاک کے ڈھیر میں بدل دیا لیکن افغانستان سے بھی اس کو شکست کے سوا کچھ نہیں ملا"۔

٭ مسٹر ٹرمپ! تمہاری افواج کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں 60 فیصد عام شہری شامل ہیں؛ 17 سال سے ایک لاکھ دس ہزار فوج لے دنیا بھر کو بھی ساتھ ملایا لیکن تم کیا بگاڑ سکے؟ افغانستان ایک غرب ملک تھا، اس ملک میں تم کیا کچھ کرسکے ہو، اور پھر آج تم ہمارے آنکھیں دکھا رہے ہو؟

٭ مسٹر ٹرمپ! کیا ایسا نہیں ہے کہ آج تم طالبان کے ساتھ بھیک کا کاسہ لئے کھڑے ہو اور ان سے امن اور مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہو؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم نے  مذاکرات کے لئے مملکت پاکستان اور طالبان پر دباؤ بڑھا دیا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ طالبان پورا ملک نہیں بلکہ اس ملک کی ایک چھوٹی سی تنظیم ہے؟ تم اس جماعت کا کیا بگاڑ سکے ہو کہ اب ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو؟

٭ مسٹر ٹرمپ تم نے 160000 سپاہی اور افغانستان کے کئی گنا ہتھیاروں اور سازوسامان اور دوسرے ممالک کی افواج کے ہمراہ کبر و غرور کے ساتھ عراق پر حملہ کیا لیکن یہ بتاؤ کہ وہاں کیا ہوا؟ مسٹر ٹرمپ! اپنے اس وقت کے کمانڈر سے پوچھو کہ اس نے کس کو میرے پاس روانہ کیا اور کہا: کیا آپ ہمیں کچھ مہلت دے سکتے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاسکتے ہیں تا کہ امریکی فوج کے انخلاء تک کے ان چند مہینوں کے دوران عراقی مجاہدین ہمارے فوجیوں پر حملہ نہ کریں؟ کیا تم بھول گئے ہو کہ اپنے ٹینکوں میں بیٹھنے والے سپاہیوں کو بالغوں والے ڈائپر کرتے رہے ہو؟ اس کے باوجود، ایران جیسے بڑے ملک کو دھمکیاں دے رہے ہو؟ تم کس پس منظر کی بنیاد پر ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو؟

٭ مسٹر ٹرمپ! جو ہولناک ترین جرائم قرون وسطی میں انجام پاتے تھے، وہ امریکی سپاہیوں نے عراق اور افغانستان میں انجام دیئے؛ ابوغریب جیل کا واقعہ تا ابد تمہارے ماتھے پر بدنامی کا دھبہ ہے۔

٭ یہودی ریاست نے 33 روزہ جنگ لبنان پر تھونپ دی ـ جو ایک جعلی اور نقلی ریاست ہے اور ایک بوجھ کی مانند تمہارے گلے میں لٹکی ہوئی ہے اور تمہیں خطے میں ڈبو چکی ہے ـ تو تم اس کی پشت پر آ کھڑے ہوئے؛ غزہ میں تم نے غیر انسانی اقدامات میں سرانجام دیئے؛ لیکن محاذ مزاحمت کا کیا بگاڑ سکے تم؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ لبنان کی جنگ میں تم نے حزب اللہ کی تمام شرطیں مان لیں اور غزہ کی جنگ کے بعد تم نے حماس، اسلامی جہاد اور دوسری فلسطینی جماعتوں کی تمام شرطوں کو مان لیا؟

اے جوئے باز مسٹر ٹرمپ! جہاں تم سوچ بھی نہیں سکتے ہو، ہم وہاں موجود ہیں

٭ تم یمن میں 2000 ارب ڈالر کی پشت پناہی سے ایک جنگ کو نتیجے تک نہیں پہنچا سکے۔ یمن میں ایک جماعت تمہارے مقابلے پر آکھڑی ہوئی ہے لیکن تمہارے جدیدترین ہتھیاروں اور سازوسامان پر غلبہ پا چکی ہے؛ تم یمن میں اس چار سالہ جنگ کے دوران کیا کچھ حاصل کرسکے ہو؟ بحر احمر (بحیرہ قلزم) ایک پر امن سمندر تھا جس کو تم نے بدامنی سے دوچار کردیا؛ ریاض اور سعودی قلمرو، جس پر گذشتہ 100 برسوں سے ایک مارٹر گولہ تک نہیں اترا تھا، آج شدید ترین گولوں اور میزائلوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے! بایں وجود تم ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو؟

٭ مسٹر ٹرمپ! ہماری مسلح افواج کو میدان میں اترنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، تمہارا فریق مقابل میں ہوں اور صرف قدس کور تمہارا حریف ہے؛ جان لو مسٹر! ہم کسی بھی رات کو تمہاری نابودی کے بارے میں سوچے بغیر نہیں سویا کرتے اور اس مہم کے بارے میں ضرور سوچا کرتے ہیں۔

٭ اے جوئے باز مسٹر ٹرمپ! میں تم سے کہتا ہوں کہ جان لو! جہاں جہاں تم سوچ بھی نہیں سکتے، ہم وہاں وہاں موجود ہیں؛ ہم اس قدر تمہارے نزدیک ہیں کہ تم تصور تک نہیں کرسکتے ہو؛ ہم شہادت کی ملت ہیں، ہم امام حسین(ع) کی ملت ہیں، بہتر یہی ہے کہ پوچھ لو، ہم وہ ہیں جنہوں نے نہایت کٹھن ایام کو پیچھ چھوڑ دیا ہے۔

٭ مسٹر ٹرمپ! "آؤ، ہم منتظر ہیں، تمہارے مقابلے کے میدان میں، ہم مرد میدان ہیں"، کیا تم جانتے ہو کہ اس جنگ کا مطلب یعنی تمہارے تمام تر وسائل کی تباہی! ممکن ہو کہ تم جنگ کو شروع کردو لیکن اس کے اختتام کی منصوبہ بندی کرنے والے ہم ہیں۔

٭ مسٹر ٹرمپ! تمہیں ہرگز ہماری ملت کو دھمکی نہیں دینا چاہئے، تمہیں ہمارے صدر کی توہین نہیں کرنا چاہئے، تمہیں سمجھ بوجھ کر بولنا چاہئے، اپنے اسلاف سے پوچھو اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاؤ۔

٭ مسٹر ٹرمپ! امریکہ میں بہت سے مطالعاتی مراکز ہیں جو یقینا تمہیں حقائق سے آگاہ کررہے ہوںگے؛ ہمیں قتل کی دھمکی مت دو، ہم شہادت پانے اور استکبار کو فنا کرنے کے شیدائی ہیں۔

٭ مسٹر ٹرمپ! مان لیتا ہوں کہ کسی وقت امریکہ کی بھی کچھ ہیبت ہوا کرتی تھی، اس کا بحری بیڑا روانہ ہوتا تھا تو پوری ایک قوم درہم برہم ہوجاتی تھی، لیکن تم آج ان منافقین (mko) کا سہارا لئے ہوئے ہو جنہیں ایرانی قوم نے اپنی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے! اور ادھر ایک آوارہ عورت کے فریفتہ ہوگئے ہو، اور اسے ایک نیٹ ورک سے دوسرے نیٹ ورک میں لے کے جاتے ہو، کیا تمہاری امید ایسے لوگو سے ہے؟ کیا تمہاری پوری قوت یہی ہے؟ کیا تمہیں علاقے میں ہماری طاقت کا اندازہ ہے؟ کیا تم  غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) میں ہماری قوت کی خبر رکھتے ہو؟

 
http://fa.alalam.ir/news/3689456

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰