اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر تجزیاتی ویب گاہ کے مطابق، صہیونی پارلیمنٹ میں گزشتہ بدھ کو منظور کیا گیا قانون در حقیقت ایک ایسے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کی سعی ہے جسے یہ ریاست تاحال پورا کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔ اس سے قبل بھی حاکم پارٹی لیکوڈ نے کہا تھا کہ ہم نے سنہ ۱۹۴۸ میں یعنی اسرائیل کے قیام کے وقت سرزمین فلسطین سے تمام فلسطینیوں کو باہر نکانے میں کوتاہی کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم ۷۰ سال سے اس غیر یہودی قوم سے خود کا الجھائے ہوئے ہیں اور اپنی ہہودی قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کر پائے ہیں۔ لہذا جھگڑا اس وقت خاتمہ پائے گا جب ہم سرزمین فلسطین کو مکمل طور پر یہودیوں کے اختیار میں دے دیں گے۔ اس بارے میں بہت ساری باتیں کہنے کے لائق ہیں لیکن چند ایک کی طرف ہم یہاں پر اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ اس قانون کی بنا پر جو گزشتہ ہفتے بدھ کو اسرائیلی کنیسٹ میں ۶۲ نمائندوں کے موافق اور ۵۵ نمائندوں کے مخالف ووٹوں سے منظور ہوا اور جسے ’’یہودی ریاست‘‘ کا قانون نام دیا گیا، اس کے مطابق “سنہ ۱۹۴۸ کی سرزمینوں کے رہائشی غیر یہودی شہریوں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں، اس منصوبے کی بنیاد پر فلسطین ہمیشہ کے لیے یہودی ملک بن جائے گا اور کوئی چیز بھی اس کی اس پہچان کو مخدوش نہ کرے گی، سرزمین فلسطین یہودی کا وطن اور اسرائیلی حکومت کا دائمی مرکز ہے۔ دنیا کا ہر یہودی بغیر کسی قید و شرط کے فلسطین ہجرت اور اس ملک میں شہریت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے، قومی ترانہ اور اسرائیل کا پرچم ہمیشہ کے لیے اسرائیل کے یہودی ملک ہونے پر تاکید کرے گا۔ مسئلہ فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان مخلوط کرنا غیر قانونی ہو گا”۔ اس قانون کا مضمون ایک جانب سے جارحیت پسندی پر دلالت کرتا ہے اور دوسری جانب سے نسل پرستی پر۔ در حقیقت یہ قانون بتا رہا ہے کہ ۱۹۴۸ کے سرزمینوں کے اصلی وارث فلسطینی نہیں ہیں بلکہ وہ فلسطینی جو سالھا سال سے اس زمین پر سکونت پذیر تھے اور انہیں “اسرائیلی عرب شہری” کا نام دیا گیا وہ بھی یہودی شہریوں کے برابر نہیں ہو سکتے۔ جو چیز باعث تعجب ہے وہ اسرائیلیوں کی حماقت ہے اس لیے کہ اس وقت “اسرائیلی عربوں” کی آبادی ڈیڑھ ملین ہے یعنی ۱۹۴۸ کی سرزمینوں کے رہائشیوں کے ۲۵ فیصد ہے اور اتنی آبادی کو موجودہ حالات میں اگر چہ تدریجی طور پر ان کے گھروں سے بھگانا اتنا آسان نہیں ہے اور ان کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
۲۔ در حقیقت یہ قانون نومبر ۲۰۱۴ میں جب اسرائیلی کنیسٹ کے ۱۲۰ نمائندوں کے درمیان ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا تھا تو اسی دور میں ۵۵ نمائندوں نے اس کی مخالفت کی اور ۶۲ نمائندوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ قانون علی الظاہر ۴ سال تک خاموش رکھا گیا اور اب اس کی بعض شقوں میں ترمیم کر کے دوبارہ منظور کیا گیا۔ یہاں پر دو نکتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے: پہلا نکتہ یہ ہے کہ مکار صہیونی ریاست اپنی دوسری گندی پالیسیوں کی طرح ” ایک مکا مار اور چھپ جا جب تک دوسرا مکا مارنے کا موقع ملتا” والی پالیسی اپناتے ہوئے دشمن کی گیند کو اپنی زمین سے پرے کرنے کی کوشش کر رہی ہے جیسا کہ اس قانون کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی کیبنٹ کے کچھ اراکین اس قانون کی مخالف کر رہے ہیں یہ ایسے حال میں ہے کہ ایک طرف سے وہ افراد جو اس قانون کے واقعی مخالف ہیں ان کی کوئی طاقت اور قیمت ہی نہیں ہے کہ وہ اثر انداز ہو سکیں۔ اور دوسری جانب سے خود اسرائیل کے اندر بعض شخصیتوں کی جانب سے اظہار مخالفت در حقیقت ایک قسم کا تقسیم کار اور فلسطین کی اندرونی فضا کو پرامن بنانے کے لیے صرف ایک کھیل ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ طریقہ کار اسرائیل کی نگاہ میں اخراجات کو کم کرنے اور کامیابی کی شرح میں اضافہ کرنے کی ایک تاکنیک ہے۔ اور دوسری جانب سے اگر اسے شکست کا بھی سامنا ہوا تو اسرائیل کو کوئی صدمہ نہیں پہنچے گا۔
اس گفتگو سے ہٹ کر اگر ہم بات کرنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان اقدامات کی روشنی میں جو اس رژیم نے گزشتہ ۲۵ سالوں میں انجام دئے ہیں یعنی اوسلو کے معاہدے سے اب تک، اسرائیل فلسطین کو مکمل طور پر یہودی بنانے کے لیے ایک معین منصوبہ اپنا رہا ہے اور اس کو ایک درمیانی پالیسی کے ذریعے نافذ کر رہا ہے۔ مسجد الاقصیٰ کے نیچے سے زمین کی کھدائی، مسجد الخلیل پر قبضہ، بیت المقدس میں مسلمان نمازیوں پر مختلف طرح کی پابندیاں، مشرقی قدس میں دار الحکومت کی منتقلی کے لیے مقدمات کی فراہمی وغیرہ وغیرہ اسی مقصد کو پورا کرنے کا حصہ ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ عربی اور اسلامی دنیا میں ان اقدامات کا انعکاس بہت ہی ضعیف رہا ہے۔ در حقیقت اسرائیل مسلمانوں کے عام افکار اور مسلمان حکومتوں کے ارادوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اگر اسلامی حکومت پر یہ صہیونی کنٹرول جاری رہے تو مسلمانوں کے قبلہ اول کے لیے ایک عظیم خطرہ لاحق ہو گا اور بطور کلی اسلامی سماج کو شکست کا سامنا ہو گا۔
بنابرایں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہ صرف امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے سے بلکہ عرب دنیا میں محمد بن زائد اور محمد بن سلمان جیسی کٹھ پتلیوں کے بھی اقتدار سنبھالنے سے یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ صہیونی ریاست اپنے جارحانہ اقدامات کو وسعت دینے میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرے گی۔ اور اس وقت صہیونی کنیسٹ نے اس چیز کو منظور کیا ہے جس کے نفاذ کے بارے میں مسلمان حکمرانوں اور امت مسلمہ کی جانب سے اطمینان حاصل کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲