اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر لاریجانی نے اپنے مذمتی بیان میں صہیونی پارلیمان کے ذریعے منظور کئے گئے ’’یہودی ریاست‘‘ پر مبنی قانون کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نسل پرستانہ قانون کا نام دیا اور کہا کہ اس قانون کی منظوری کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے باہر نکالنا دنیا والوں کے سامنے ایک قانونی شکل اختیار کر جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایک جانب سے قدس کی غاصب ریاست کی نسل پرستانہ حقیقت پر مہر تصدیق ہے اور دوسری جانب سے اس رژیم کے سربراہوں کی اس بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دنیا کے افکار عامہ سے مسئلہ فلسطین کو بطور کلی مٹانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس نسل پرستانہ قانون کی بین الاقوامی سطح پر کوئی قیمت نہیں کہا کہ اقوام متحدہ کی ۱۹۵ نمبر قرارداد کے مطابق فلسطینیوں کو اپنے وطن واپسی کا پورا حق حاصل ہے اور کوئی ان سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔
بین الاقوامی اسلامی اتحاد کے سربراہ نے ان تمام ممالک کی قدردانی کرتے ہوئے جنہوں نے اس صہیونی قانون کے خلاف قدم اٹھایا کہا: میں تمام ممالک، حکام، پارلیمانوں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ اس باطل اور ناقابل قبول قانون کی مذمت کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے خلاف ٹھوس اقدام کریں تاکہ وہ ملت فلسطین کے حقوق کو پامال کرنے والے اس جارحانہ قانون کے نفاذ میں ناکام ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲