8 جون 2018 - 14:20
یوم القدس و کشمیر، انجمن شرعی کے اہتمام سے متعدد مقامات پر جلوس

معتہ الوداع کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی امام باڑہ بڈگام میں منعقد ہوا جہاں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں یوم القدس کا جلوس نکالا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے اہتمام سے وادی کے اطراف و اکناف میں جمعتہ الوداع کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اور یوم القدس اور یوم کشمیر کے حوالے سے احتجاجی ریلیاں برآمد کی گئیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شامل ہوکر فلسطینی مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ، قبلہ اول کی آزادی اور تحریک آزادی جموں وکشمیر کو منطقی انجام تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ جمعتہ الوادع کے اجتماعات کے بعد جن مقامات پر جلوس ہائے قدس برآمد کئے گئے ان میں مرکزی امام باڑہ بڈگام،حسن آباد سرینگر، امام باڑہ یاگی پورہ ماگام، آستانہ میر شمس الدین اراکیؒ چاڈورہ، امام باڑہ گامدو سوناواری،جامع مسجد اندرکوٹ سمبل،جامع مسجد نوگام سوناواری، امام باڑہ صوفی پورہ پہلگام، جامع مسجد سونہ پاہ بیروہ، امام باڑہ سوٹھ کٹر باغ وغیرہ شامل ہیں۔ جمعتہ الوداع کا سب سے بڑا اجتماع مرکزی امام باڑہ بڈگام میں منعقد ہوا جہاں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں یوم القدس کا جلوس نکالا گیا۔ جلوس میں شامل ہزاروں مظاہرین نے اسرائیل اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مین چوک بڈگام تک مارچ کیا جہاں آغا حسن نے احتجاجی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینیؒ نے ماہ مبارک کی آخری جمعہ کو یوم مستضعفین کے طور پر منانے کی تاکید کرکے امت مسلمہ کی توجہ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم اور قبلہ اول کی آزادی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تاکہ مۂلہ فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یوم مستضعفین صرف فلسطین کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر اس مظلوم قوم کے ساتھ ہے جنہیں طاقت و تشدد کے بل پر روندا جارہا ہے۔ جن کی برحق آواز کو دبانے کیلئے انسانیت سوزی کا بے دریغ مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ ان قوموں میں فسلطین اور کشمیر سرفہرست ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے بعد فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم میں مذید اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلہ تنازعہ فلسطین کے دوریاستی حل کی کوششوں کی بیخ کنی کا دانستہ منصوبہ ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو ختم کرنے کیلئے دلی کی سفاکانہ راہ و روش کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر سے متعلق تاریخی اور زمینی حقائق کو تسلیم کئے بغیر مذاکراتی پیش کش بے معنی ہے۔ کشمیر بھارتی فورسز کیلئے ظلم و بربریت ڈھانے کی تجربہ گاہ بن چکی ہے۔ نوجوانوں کو پکڑ کر گاڑیوں تلے کچل کر بھارتی فورسز نے داعش جیسے سفاک دہشت گرد گروہ جیسا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں بھارت کی انسانیت سوزیاں دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ بھارت کے ساتھ وابستہ تجارتی اور اقتصادی مفادات کی وجہ سے عالمی طاقتیں کشمیر یوں کی جاری نسل کشی پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتی ہیں جس کی وجہ سے کشمیر میں بھارتی مظالم میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲