6 جون 2018 - 12:34
امریکی سفارتخانے کی قدس منتقلی، اسٹراٹیجک اقدام یا غیر متوقع فیصلہ؟

سوال یہ ہے کہ کیا اس اقدام کے پیچھے کوئی اسٹریٹجک مقصد تھا؟ یا یہ غیر متوقع فیصلہ ہے اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی احمقانہ کارستانی ہے؟ کیا اگر ٹرامپ کے علاوہ اس وقت کوئی دوسرا امریکہ کا صدر ہوتا تو وہ بھی یہ کام کرتا؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے حالیہ دنوں رونما ہونے والی ایک اہم تبدیلی قدس کو غاصب صہیونی ریاست کا دار الخلافہ قرار دینا اور امریکی سفارتخانے کا قدس منتقل کرنا ہے۔ یہ ایسا اقدام ہے جس کے خلاف فلسطین کے عوام نے وسیع پیمانے پر احتجاج کیا اور تجزیہ نگاروں نے اس حوالے سے کافی تجزیہ بھی کیا ہے۔
جو چیز یہاں پر ہم موضوع سخن بنانا چاہتے ہیں وہ اس اقدام کے تاریخی عوامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس اقدام کے پیچھے کوئی اسٹریٹجک مقصد تھا؟ یا یہ غیر متوقع فیصلہ ہے اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی احمقانہ کارستانی ہے؟ کیا اگر ٹرامپ کے علاوہ اس وقت کوئی دوسرا امریکہ کا صدر ہوتا تو وہ بھی یہ کام کرتا؟
اس مختصر تحریر میں ہم کوشش کریں گے کہ امریکہ کے صہیونی ریاست کے ساتھ خارجہ تعلقات کی تاریخ کا مختصر جائزہ لے کر مذکورہ سوالات کا جواب دیں۔ اس تحریر کے مطالب کو معتبر کتابوں کی طرف استناد دی گئی ہے تاکہ شائقین حضرات مزید مطالعہ کے لیے ان کی طرف رجوع کر سکیں۔
امریکہ، صہیونی ریاست کی حیات کا عامل
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے یہودی ریاست کی دائمی حمایت ان مسائل میں سے ہے جن پر آج تمام مشرقی و مغربی دانشور اتفاق نظر رکھتے ہیں۔ ’’امریکہ نیا یروشلم‘‘، ’’صہیونی ریاست کے خارجہ روابط‘‘، ’’خفیہ حکمران‘‘ اور ’’اسرائیلی لابی اور امریکی خارجہ پالیسی‘‘ جیسے موضوعات پر مطالعہ کرنے سے ہمارا دعویٰ ثابت ہو جاتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے متعدد بار اس موضوع پر گفتگو کی ہے، آپ نے امام خمینی(رہ) کی انیسویں برسی کے موقع پر فرمایا: ’’صہیونی ریاست اندرونی طور پر کھوکھلا ہو چکی ہے اس میں کوئی طاقت اور توانائی باقی نہیں ہے، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت اس میں نہیں ہے۔ دو عوامل ایسے ہیں جنہوں نے آج یہودی ریاست کو کھڑا کیا ہوا ہے؛ ایک امریکہ کی غیر مشروط اور شرمناک حمایت اس ظالم ریاست کے تئیں، اور دوسرا عامل عربی اور اسلامی ممالک کا فلسطین کی حمایت نہ کرنا۔ (۱) آپ نے اسلامی وحدت کانفرنس میں فرمایا: ’’صہیونی ریاست کے لبنان پر حملے میں امریکہ براہ راست میدان جنگ میں اتر آیا اور اس نے صرف زبانی، مالی اور سیاسی حمایت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے یہودی ریاست کے لیے ہتھیار فراہم کئے اور اس کی مدد کی۔ در حقیقت یہ جنگ امریکہ کی مرضی سے ہوئی اور اسی نے شروع کی۔ آج سب سے بڑا طاغوت امریکہ ہے۔ (۲)
امریکہ کی اسرائیل کو براہ راست امداد (ڈالروں میں)



اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کو بھی آج عالمی صہیونی فکر کے علاوہ چلانے والا کوئی نہیں ہے۔ امریکہ کی یہودی لابی ہے جو اس ملک کی ثقافت(۳)، سیاست(۴)، معیشت اور معاشرے پر اپنا مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں عالمی صہیونیت اپنے خیالی اہداف و مقاصد کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی غرض سے امریکہ کو اپنے کنٹرول میں کئے ہوئے ہے اور جعلی ریاست اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں نفوذ کے لیے بطور آلہ کار استعمال کر رہی ہے۔
اسی وجہ سے غاصب صہیونی ریاست کے جرائم میں امریکہ بھی برابر کا شریک ہے (۵) لہذا امریکہ مسئلہ فلسطین میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے کہ وہ خود اس قضیے میں مجرم ہے۔ وہ اسلامی ممالک اور اسلامی ملتوں کا دشمن ہے۔(۶) امریکی حکومت، دنیا میں انسانی حقوق پامال کرنے والی سب سے بڑی حکومت ہے۔ وہ نہ صرف کل ان جرائم کا ارتکاب کرتی تھی بلکہ آج بھی ایسا ہی کر رہی ہے امریکی وہ لوگ ہیں جن کی پشت پناہی سے صہیونی ریاست علاقے میں بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے اور ہر شیطانی کام انجام دینے میں پیش پیش ہے۔(۷)
مذکورہ باتوں کو جو چیز ثابت کرتی ہے وہ ’’ ڈیوڈ آرنسٹ ڈیوک‘‘(۸) ’’نوم چومسکی‘‘ (۹)، ’’گلن گرینوالڈ‘‘ (۱۰) اور دیگر مولفین (۱۱) کے قلمی آثار ہیں ۔
امریکی انتخابات میں صہیونی لابی کا اثر و رسوخ
امریکہ میں صہیونی لابی کے اثر و رسوخ کا جائزہ لینے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست شب و روز اس کوشش میں ہے کہ امریکہ کی سیاسی پالیسیوں کو خود منصوبہ بندی کرے اور اس کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنے جعلی وجود کو تحفظ دے سکے۔
امریکی صدور (۱۳) کو حاصل یہودی حمایتیں(۱۲) اور امریکہ کو یہودیانے کے لیے ان کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ (۱۴) ۲۰۱۶ میں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے امیدواروں کی مالی حمایت کرنے والوں کی فہرست پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ اس فہرست کے پہلے ۵۰ دولت مند ترین افراد جو ان امیدواروں(۱۵) کے حامی تھے ، یہودی(۱۶) ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس فہرست کے پہلے دس افرد جو ارب اور کھرب پتی ہیں وہ بھی یہودی ہیں۔
نتیجہ
مذکورہ باتوں اور ذیل میں پیش کیے جانے والے منابع و مآخذ کے پیش نظر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر کا یہ اقدام ایک مکمل اسٹریٹجک اقدام اور عالمی صہیونیت کی جانب سے طے شدہ پروگرام کے تحت تھا۔ اور بالفرض اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ کوئی دوسرا امریکہ کا صدر ہوتا تو وہ بھی یقینا یہی انجام دیتا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے انتہا پسند یہودی داماد کے بر سر اقتدار آنے سے شاید یہ کام چار دن پہلے ہو گیا۔ اس لیے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس پر مسلط شدہ صہیونیت سے اس کے علاوہ کی توقع رکھنا فضول ہے۔
دنیا کے مسلمان اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے حریت پسند افراد کو یہ جان لینا چاہیے کہ عالمی استکبار کے خلاف جنگ، دائمی جنگ ہے آج ظلم کو ہوا دینے والا ڈونلڈ ٹرمپ ہے تو کل کوئی دوسرا ہو گا۔ اس میدان میں وہ شکست کھائیں گے جو یہ سوچتے ہیں کہ جارچ ڈبلیو بش، باراک اوبامہ یا ڈونلڈ ٹرمپ کی فکر، پالیسی یا ان کے رویے میں اختلاف یا فرق تھا۔
ظلم اور عالمی استکبار کے مقابلے کا میدان در حقیقت وہی ایمان کا شیطان سے مقابلے کا میدان ہے ’شیطان بزرگ‘ کے خلاف جنگ میں معمولی سی کوتاہی ایمان کو متزلزل کر دیتی ہے۔ اچھے اچھے لوگ بھی جب عالمی صہیونیت کے بچھائے ہوئے جال میں پھنستے ہیں تو شیطان بزرگ کے راستے پر چلنے میں مجبور ہو جاتے ہیں۔
لہذا مسلمان ہوشیار باش!

حوالہ جات

(۱) بیانات در مراسم نوزدهمین سالگرد رحلت امام خمینی (رحمه‌الله) ۱۴/۳/۱۳۸۷
(۲) بیانات‌ در دیدار شرکت کنندگان در همایش کنفرانس وحدت اسلامی ۳۰/۵/۱۳۸۵
(۳) www.yjc.ir/fa/news/4247120/
(۴) بررسی تأثیر لابی صهیونیستی درانتخابات آمریکا، مجله موعود آبان ۱۳۸۴، شماره ۵۸
(۵) محفل رمضانی انس با قرآن کریم؛ رمضان ۱۳۹۷
(۶) بیانات در دیدار کارگزاران نظام ۲۱/۴/۱۳۷۷
(۷) بیانات در دیدار مردم قم ۱۹/۱۰/۱۳۹۲
(۸) David Ernest Duke
(۹) Noam Chomsky
(۱۰) Glann Greenwald
(۱۱) https://en.wikipedia.org/wiki/Category:Jewish_anti-Zionism
(۱۲) www.globalresearch.ca/the-role-of-the-pro-israel-lobby-in-us-politics/5625680
(۱۳) www.mouood.org/component/k2/item/42693
(۱۴) mshrgh.ir/548551
(۱۵) www.haaretz.com/jewish/features/1.652798
(۱۶) www.haaretz.com/blogs/david-s-harp/.premium-1.658332
www.accuracy.org/release/the-billionaries-election-the-sanders-exception/
www.tomdispatch.com/post/176097/
www.haaretz.com/jewish/features/1.658520
mshrgh.ir/796832

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲