اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو امریکہ کی ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے کہ جس نے اپنے دستخط شدہ معاہدے کو پیروں تلے روندا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پوری دنیا پر یہ ثابت کئے جانے کی ضرورت ہے کہ ایرانی قوم ایک متحد، اور شجاع و بہادر قوم ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں جبکہ چند ایک ملکوں کو چھوڑ کر بیشتر ممالک ہمارے عزم کے معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کا موقف صحیح ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران کی میزائل و علاقائی طاقت کا تحفظ کیا جائے گا اور پرامن جوہری شعبوں میں جوہری توانائی کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے آبدوزوں اور بحری جہازوں کے لئے ایٹمی توانائی کے حامل طاقتور انجنوں کے استعمال، مستحکم آئیسوٹوپ اور یو ایف چھے کی پیداوار اور اسی طرح ایران کی جوہری توانائی کو مستحکم بنانے کے لئے کاربن فائبر کے استعمال کو امریکہ کی جانب سے عہد شکنی کے بہترین جواب سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ان اقدامات پر بنیادی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ان اقدامات سے ایٹمی معاہدے کی کوئی خلاف ورزی بھی نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے سے یورپ و امریکہ کا مقصد ایران کے اقتدار کو ختم کرنا تھا، کہا کہ یورپی ممالک کو اس بات کی ضمانت فراہم کرنا ہو گی کہ وہ ایران کا تیل خریدیں گے اور امریکی پابندیوں سے بینکنگ امور میں پیدا ہونے والے مسائل کو دور کریں گے۔
ڈاکٹر ولایتی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ کو علاقے سے واپس جانا اور علاقے کو علاقے کے ممالک کے سپرد کرنا ہو گا، کہا کہ عراقی کردستان میں امریکہ کے سب سے بڑے قونصل خانے کے باوجود، کہ جس کا مقصد عراق کو تقسیم کرنا ہے، علاقے میں امریکہ کے تمام منصوبے ناکام ہو گئے ہیں جبکہ ایران علاقے کا ایک موثر و مثالی ملک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲