26 اپریل 2018 - 04:57
یمن کے صدر صالح بن علی الصماد کی شہادت پر رد عمل

دنیا بھر کے مختلف حریت پسند سیاستدانوں نے یمن کی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح بن علی الصماد کی شہادت پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور تعزيتی پیغامات بھجوائے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے صدر صالح بن علی الصماد کی شہادت پر اس عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل آنتونیو گوترش کو اس واقعے سے شدید صدمہ پہنچا ہے اور انھوں نے یمنی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

ادھر حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کے نام اپنے پیغام میں صدر صالح الصماد کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام نشر کیا ہے۔

حزب اللہ لبنان نے صالح بن علی الصماد کی شہادت کے سلسلے میں بیان جاری کرتے ہوئے امریکی ـ سعودی جارح اتحاد کے وحشیانہ جرم ـ جو یمن کے ایک نامی گرامی اور بہادر راہنما کی شہادت پر منتح ہوا ـ کی شدید مذمت کی ہے۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں یمن کی اعلی سیاسی کونسل اور انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے سربراہ صالح بن علی الصماد کی شہادت پر جاری کردہ اپنے بیان میں اس واقعے کی مناسبت سے یمنی عوام اور انصاراللہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

اس بیان میں ہے کہ صالح الصماد ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے دشوار ترین مراحل میں نہایت سخت اور دشوار ذمہ داریوں کو نبھایا اور علاقے کی بدترین جارحیت کا مقابلہ کیا؛ اور اپنی عظیم ترین آرزو تک پہنچے۔ اور اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی مٹی پر جام شہادت نوش کرگئے۔

حزب اللہ نے یمن پر سعودی ـ امریکی جارحیت کے آگے مشکوک اور مجرمانہ بین الاقوامی خاموشی کی بھی مذمت کی اور دنیا کے تمام حریت پسند انسانوں اور اقوام اور اداروں سے اپیل کی کہ یمن کی مظلوم قوم کا ساتھ دیں اور اس سعودی ـ امریکی جارحیت کو رسوا کریں۔

اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ یمنی قوم ایک با استقامت اور غیور و صبور قوم ہے جس نے امریکی ـ سعودی اتحاد کے غیر انسانی حملوں کا زبردست مقابلہ کیا ہے، اپنے اتحاد اور یکجہتی سے اپنی بہادر قیادت کی حمایت کرکے اس عظیم مصیبت پر غالب اسکتی ہے؛ اور یہ مجاہد قوم بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

بحرین کے 14 فروری کے انقلاب کے نوجوانوں کی تنظيم نے بھی شہید الصماد کی شہادت پر تعزیتی بیان جاری کیا ہے اور فلسطین کی مختلف مزاحمتی تنظیموں نے بھی غم و غضے کا اظہار کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰