اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمرل علی شمخانی ـ جو دنیا کے پانچ براعظموں کے اعلی سیکورٹی اہلکاروں کے اجلاس میں شرکت کے لئے روس کے شہر سوچی کے دور پر ہیں ـ نے منگل [24 اپریل 2018] کو روسی سلامتی کونسل کے سربراہ کے ساتھ پہلی ورکنگ سیشن میں کہا ہے کہ ایران اور روس دہشت گردی کے خلاف جنگ، بحران یمن، افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی نیز شام میں شکست سے دوچار ہونے والے دہشت گرد تکفیری ٹولوں کی موجودگی سے شام اور وسطی ایشیا میں پیدا ہونے والے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران اور روس نے شام میں دہشت گردی کا سرکچلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اور اب بعض ممالک نے غیر قانونی طور پر اپنے دستے شام میں تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے حالات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے اور ان کی موجودگی عملی طور پر تکفیری دہشت گردی کی تقویت کا سبب بنے گی۔
انھوں نے کہا کہ شام میں ٹی فور ہوائی اڈے پر یہودی ریاست کے حملے سے دہشت گردی کے اصل حامیوں کا چہرہ بےنقاب ہوچکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ روس اور ایران نے دوما میں مبینہ کیمیاوی حملے کے سلسلے مین غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کی ہے چنانچہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا میزائل حملہ بلاجواز اور غیر قانونی تھا اور اس کا مقصد سیاسی روشوں سے شام کا مسئلہ حل کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایران اور روس کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے شامی افواج اور عوامی رضاکاروں کی حمایت جاری رکھنا ایک ناگزیر عمل ہے تاکہ اس ملک میں جاری سیکورٹی بحران کا خاتمہ ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰