اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی اخبار ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ کے ضمن میں لکھا ہے کہ سعودی ارب پتی ولید بن طلال ـ جنہیں کچھ عرصہ ریاض کے فائیو اسٹار جیلخانے میں رہنے کے بعد بھاری رقوم ادا کرنے کے عوض مشروط طور پر رہا کردیا گیا ہے ـ آزاد زندگی کے عوض ماہانہ تین کروڑ ڈالر محمد بن سلمان کو ادا کر رہے ہیں۔
انہیں محمد بن سلمان کی نام نہاد انسداد بدعنوانی مہم کے نتیجے میں دوسرے سعودی شہزادوں اور تاجروں کے ہمراہ گرفتار کرکے ریاض کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا گیا تھا۔
روزنامہ ٹائمز نے لکھا کہ سعودی عرب کے سب سے زیادہ دولتمند ولید بن طلال سینکڑوں ارب ڈالر کا سرمایہ حکومت کے خزانے میں ڈال کر مشروط رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہؤئے ہیں۔
ٹائمز کے مطابق محمد بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کے لئے ایک جھٹکا تھا کیونکہ وہ دنیا بھر میں “فور سیزنز” ہوٹلوں کے مجموعے اور ٹوئیٹر اور مشرق وسطی کے عظیم ترین روٹانا ٹی وی چینل میں حصص کے مالک ہیں۔ روٹانا کا کل سرمایہ 17 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔
شہزادہ ولید بن طلال نے ابھی تک اپنی رہائی کی قیمت کو نہ تو جھٹلایا ہے اور نہ ہی اس کی تائید کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰