اہل بیت(ع) نیوز ایجنس۔ابنا۔ غزہ کے فلسطینی باشندوں نے تیس مارچ، یوم الارض کی مناسبت سے صیہونیت مخالف ریلی اور مظاہرے کئے اور مقبوضہ فلسطین سے غزہ کو جدا کرنے والی سرحد پر بڑا اجتماع کیا جس پر اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کر دی۔
فلسطین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں کم سے کم سات فلسطینی شہید اور ساڑھے پانچ سو دیگر زخمی ہوئے ہیں جن میں سے درجنوں افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کے حق کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام اور گرفتاریوں نیز بیت المقدس کو یہودی بنائے جانے کی مذمت میں نعرے بھی لگا رہے تھے۔
مظاہرے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سمیت متعدد فلسطینی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں میں واپسی کا حق دیئے جانے پر زور دیا۔
حماس کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام بیت المقدس اور اپنی واپسی کے حق کی بنیاد پر فلسطینی تحریک کو مہمیز کریں گے اور آج کے مظاہرے تمام فلسطینیوں کی ان کے آبائی علاقوں کو واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی واپسی کے حق پر زور دینے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر رہے ہیں کہ ہم اپنے مسلمہ حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پوری فلسطینی قوم بیت المقدس اور واپسی کے حق پر پوری طرح متحد ہے۔
غزہ میں یہ بیت المقدس اور واپسی کے حق پر زور دینے کے لیے فلسطینیوں کے بھرپور مظاہرے اور اسرائیل کی جانب سے پرامن فلسطینیوں پر فائرنگ ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ کا دورہ کرنے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی واشنگٹن میں اسرائیلی لابی کے لیڈروں سے ملاقات کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲