24 مارچ 2018 - 17:23
 تہران کا منہ توڑ جواب تل ابیب کو ہلا کر رکھ دے گا: رای الیوم

عرب زبان کے مشہور انٹرنٹ اخبار ’’رای الیوم‘‘ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے: صہیونی ریاست کا شام کے ایٹمی پلانٹ پر ۲۰۰۷ میں حملے کا اعتراف اور اس کے ضمن میں ایران کو دھمکانے کی کوشش، در حقیقت خود اسرائیل کی شکست کا ثبوت ہے تل ابیب تہران کو گیدڑ بھبکیوں سے ڈرا نہیں سکتا چونکہ تہران کا جواب تل ابیب کو ہلا کر رکھ دے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیل کی جانب سے شام کے دیرالزور ایٹمی تنصیبات پر ۲۰۰۷ میں کئے گئے حملے کی ویڈیو جاری کئے جانے کے بعد معروف اخبار ’رای الیوم‘ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ ۱۱ سال کے بعد صہیونی ریاست کی جانب سے دیر الزور ایٹمی تنصیبات پر بمباری کا اعتراف در اصل اس لیے تھا کہ وہ شام اور خصوصا ایران کو یہ دھمکی دینا چاہتا ہے کہ تل ابیب کبھی بھی ایران کی ایٹمی تنصیبات کو اپنے حملے کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ لیکن اس دھمکی کی ویلیو اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب شامی حکومت کی طرف سے یہ اعلان اور خود صہیونی سکیورٹی افیسر کی طرف سے اس کی تصدیق سامنے آتی ہے کہ اسرائیل نے شام میں جس ایٹمی پلانٹ کو حملے کا نشانہ بنایا تھا وہ دراصل حملے سے پہلے ہی خالی کیا جا چکا تھا اور اس میں سوائے عمارت کے کچھ بھی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔
رای الیوم نے مزید لکھا ہے: اسرائیل کی طرف سے حملے کا اعتراف اور اس کی ویڈیو اور تصاویر کا جاری کرنا، کئی سوالات اور پیشن گوئیوں کو جنم دیتا ہے جنہیں درج ذیل موارد میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔
اول: ایران کو ضمنی طور پر خبردار کرنا اس دعویٰ کے ساتھ کہ تہران کے ایٹمی پلانٹ پر اس کے مشابہ حملہ ہو سکتا ہے اور حتیٰ اسرائیل کے وزیر اطلاعات نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھ بھی دیا کہ یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے ایران جیسے ممالک کے لیے پیغام بھی ہے جو ایٹمی توانائی حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں اور جن سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ ہے۔
دوم: بعض رپورٹوں میں یہ ملتا ہے کہ صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے حالیہ امریکہ دورے کے دوران ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ معاہدہ انجام پایا ہے کہ ایران کے خلاف حملے کی دھمکیوں میں اضافہ کیا جائے خاص طور پر اگر ایران کا ایٹمی معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو اس پر حملے کے دھمکیوں کے ذریعے دباؤ ڈالا جائے گا۔
سوم: صہیونی ریاست کا شام پر حملے کا اعتراف در حقیقت ایک طرح کی نفسیاتی جنگ ہے کہ جو اسرائیل ’مزاحمتی محور‘ کے خلاف علاقے میں چھیڑنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی اسرائیل خصوصاً اپنے جنگی طیارے ایف ۱۶ کی سرنگونی سے پہلے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر میزائل حملے کی دھمکیاں دیتا تھا۔
رای الیوم نے مزید لکھا: ۱۰ فروری کو اس رژیم کے جنگی طیارے ایف ۱۶ کی شامی فوج کے ذریعے سرنگونی کے بعد اسرائیل شام اور لبنان پر کسی طرح کے حملے کی دھمکی دینے کی جرئت نہ کر سکا اس لیے کہ شام اور اس کے اتحادیوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر اسرائیل کسی طرح کی غلطی کر بیٹھے گا تو اسے خاک میں ملا دیا جائے گا۔
رای الیوم نے تمام احتمالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صہیونی ریاست کی طرف سے ایران کو دی جانے والی دھمکی کے بارے میں لکھا ہے: اسرائیل کا پیغام اور اس کی دھمکیاں ایران کو نہیں ڈرا سکتیں اس لیے کہ تہران تل ابیب کے ہر تجاوز کا منہ توڑ جواب دینے کو تیار ہے اور ایران کے ایٹمی تنصیبات ایسے مقامات پر ہیں جہاں اسرائیل کے میزائل پہنچ ہی نہیں سکتے بلکہ برعکس تل ابیب کا ایٹمی پلانٹ تہران کے نشانے پر ہے چونکہ ایران لبنان اور شام کی سرزمین سے باآسانی تل ابیب کو مٹی میں ملانے پر قادر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اتحادی جیسے ’پوتین‘ بھی صہیونی ریاست کی ہر ناجائز حرکت کا دندان شکن جواب دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔ جیسا کہ روس کے وزیر خارجہ ’سرگئی لاوروف‘ نے اعلان کیا کہ دمشق پر اسرائیل کی طرف سے کسی طرح کی جارحیت دمشق کے اتحادیوں کے لیے بھی خطرہ شمار ہو گی اور اس کا ناقابل جبران جواب ملے گا۔
اس رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست ٹھیک طریقے سے جانتی ہے کہ ’مزاحمتی محور‘ اس وقت دو اہم چیزوں کا حامل ہے ایک ارادہ اور اسرائیل کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے قوی محرک اور دوسرا فوجی طاقت کہ جو اسرائیل جیسی ریاست کو چند لمحوں میں نابود کرنے پر قادر ہے۔
اگر اسرائیل ایران کے ایٹمی پلانٹ کو نابود کرنے پر قادر ہوتا تو وہ آج سے ۲۰ سال پہلے یہ کام کر چکا ہوتا لیکن یہ رژیم تہران کے دندان شکن جواب سے ہراساں ہے اور کبھی بھی ایسی غلطی کرنے کی جرائت نہیں کرے گی۔
رای الیوم نے آخر میں لکھا ہے کہ بڑے پہاڑ کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا جاتا اگر کوئی چاہتا ہے کہ نشانے پر تیر مارے تو وہ بڑے پہاڑ کی تلاش میں نہیں جاتا۔ اسرائیل اگر حقیقت میں حملے کی جرئت رکھتا ہوتا کبھی بھی اپنی بوسیدہ اسناد کو شائع نہ کرتا اور بڑھیا کی طرح اپنی گزشتہ کارستانیوں کو یاد کر کے خوش نہ ہوتا۔

بشکریہ: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲