اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے تمام دیہہ ، زونل اور ضلعی صدور و سیکریٹری صاحبان کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس صدر دفتر پر تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں تنظیمی معاملات زیر بحث لائے گئے اور شیعیان کشمیر کے اجتماعی مفادات سر جڑے چند اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال گیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کو دہرایا گیا کہ تنظیم کے بنیادی نصب العین اقامت دین کی عمل آوری کیلئے ہر سطح پر نتیجہ خیز اقدامات کے تسلسل کو جاری رکھا جائے گا اور اس مقصد کیلئے کسی بھی مصلحت کو حائل راہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اراکین و عاملین نے تنظیم کے سربراہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور خلوص و جذبۂ ایثار کو سراہتے ہوئے موصوف کی سربراہی میں تنظیم کی روز افزون ترقی اور مقبولیت کو ایک کھلی کتاب قرار دیتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی کہ سربراہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اسلامیان کشمیر کے اجتماعی مفادات کیلئے ریاستی عوام کی سیاسی جدوجہد کے شانہ بہ شانہ اپنا کردار نبھانا اور ریاست میں اتحاد ملی کے حوالے سے ذمہ داریوں کی ادائیگی تنظیم کے آئین اساسی کا ایک جُز لاینفک ہے شیعیان کشمیر کے اجتماعی مفادات سے جُڑے چند معاملات کو زیر بحث لاتے ہوئے اراکین و عاملین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی مسجد امام باڑے یا قومی اثاثے کو آپسی انتشار کی آماجگاہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اراکین و عاملین نے یہ عہد دہرایا کہ اس طرح کے معاملات میں تنظیم کے قائد کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کیلئے اراکین و عاملین اپنا بھرپور تعاون پیش کریں گے۔ اپنے صدارتی خطاب میں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سیننر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اراکین و عاملین کے دینی اور تنظیمی جذبے اور تنظیمی وفاداریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجمن شرعی شیعیان کی سوچ، فکر اور پیغام یہ ہے کہ بدگمانیوں اور انتشار کے ازالے کیلئے مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا جائے جوبھی ادارے اور تنظیمیں قومی اور دینی خدمات انجام دے رہی ہیں انہیں بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت ایک دوسرے کے وجود و اہمیت کا اعتراف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ خانوادہ مہدوی کی دینی خدمات کا دائرہ 5 سو سال پر محیط ہے اور ہر دور میں اس خانوادے نے دین و ملت کی خدمت کے حوالے سے ایک شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ تاہم بانی انجمن شرعی شیعیان کے وفات کے بعد جوحالات پیدا ہوئے اس سے اس تبلیغی مشن کو مخدوش صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ بانی انجمن شرعی شیعیان کے جانشین صدر مرحوم حجۃ الاسلام والمسلین آغا سید مصطفی الموسوی الصفوی خانوادہ کے اتحاد اور اتفاق کے آرزو مند تھے اور مرحوم کی اس آرزو کی تکمیل کی راہ میں کون سے عوامل سدراہ ہوئے اُن سے پوری قوم واقف ہے۔ اس موقعہ پر آغا صاحب نے اعلان کیا کہ امام حسینؑ اسپتال کی قومی شناخت بحال کرنے کیلئے ماہ مارچ کے وسط میں امام حسین فاونڈیشن کے جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ آغا صاحب نے کٹھواعہ میں کمسن بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے سانحہ کی مکمل تحقیقات اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا پُرزور مطالبہ کیا۔ آغا صاحب نے LOC پر جاری کشیدگی اور دونوں اطراف ہورہے جانی و مالی نقصان پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال دونوں اطراف کے عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہے اور کشیدگی کا متواتر جاری رہنا پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲