اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دختر رسول ؐ حضرت فاطمہ صدیقہ سلام اللہ علیھا کی شہادت کے اندوہ ناک موقع پر حسینیہ سبطین آباد حضرت گنج لکھنؤ میں دوروزہ مجالس کے سلسلہ کی آخری مجلس کو امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے خطاب کیا۔ مجلس کا آغاز قاری معصوم مہدی نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔تلاوت کے بعد مجلس کا آغاز ہوا ۔ مولانا سیدکلب جواد نقوی نے ’’ اسلام میں خواتین کے حقوق ‘‘ کے موضوع پر مجلس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے لئے جن حقوق کی بات آج ہمارا سماج اور عدالتیں کررہی ہیں اسلام وہ تمام تر حقوق خواتین کو بہت پہلے دے چکاہے ۔اسلام میں خواتین کا جتنا مرتبہ اور عظمت ہے کسی دوسرے مذہب میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔مولانا نے کہاکہ اسلام میں مردیا عورت ہونا معیار فضلیت نہیں ہے بلکہ باکردار اور صاحب تقویٰ ہونا عظمت اور فضلیت کا معیار ہے ۔لہذا یہ کہنا کہ اسلام میں مردوں کو زیادہ حقوق دیے گئے ہیں اسلام کے خلاف ایک پروپیگنڈہ ہے ۔مولانانے کہاکہ اگر عورت نکاح نامہ میں اپنے شرائط لکھوائے تو مرد پر ان شرائط کا ماننا واجب ہے ۔اگر عورت نکاح نامہ میں یہ شرط رکھدے کہ مرد دوسری شادی نہیں کرے گا تو مرد اس شرط کے خلاف نہیں جاسکتا ۔لیکن اس شرط سے مرد کا دوسری شادی کرنے کاحق ختم نہیں ہوتا بلکہ شرط کی مخالفت ہوگی ۔مولانانے کہا کہ عورت پر گھر کے کام کاج واجب نہیں ہیں بلکہ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ گھر کے کام کاج خود انجام دے یا خادمہ معین کرے۔اگر عورت گھر کے کام کاج کرتی ہے تو یہ اسکی محبت اور اخلاقی فریضہ ہے ۔مولانانے کہاکہ آج عورت کو اسکے حقوق اور اختیارات کے نام پر گمراہ کیا جارہاہے اور اسکا استحصال جاری ہے مگراسلام نے عورت کو فطری حقوق دیے ہیں بس انھیں سمجھنے اور ان پر غورکرنے کی ضرورت ہے ۔
مولانا نے آخر مجلس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہاکہ تمام راویوں نے متفقہ طورپر اس روایت کو تحریر کیاہے کہ جب رسول خداؐ کے پاس جناب فاطمہؑ تشریف لاتی تھیں تو آپ سراپا تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے اور انھیں اپنی جگہ پر احترام کے ساتھ بٹھاتے تھے ۔اب اس سے بڑھ کر اسلام میں عورت کا مرتبہ کیا ہوگا کہ رسول خداؐ ایک خاتون کے احترام میں کھڑے ہورہے ہیں ۔مولانانے مجلس کے اختتام پر شہزادی حضرت فاطمہ زہرا ؑکی شہادت کا واقعہ بیان کیا جسے سن کر عزادروں نے بھر پور گریہ کیا ۔
مجلس سے قبل شاہد کمال، دیدار اکبر پوری ،قمر عباس قمر ،کلب عباس اور دیگر شعرا نے بارگاہ سیدہ عالمیانؑ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔نظامت کےفرائض معروف ناظم احمد رضا بجنوری نے انجام دیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲