17 فروری 2018 - 14:28
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا دورہ ہند (۲)

حسن روحانی نے مکہ مسجد کی میناروں سے اسکتبار کے خلاف اذان دیکر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سامراج کا اگر مقابلہ کرنا ہے تو اسکی ابتداء ہر جھوٹے خدا کی نفی اور مالک کی کبریائی کے اعلان اور اس کے حضور سر تسلیم خم کرنے کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ (یواین آئی) کی رپورٹ کے مطابق صدر ایران ڈاکٹرحسن روحانی اپنے سہ روزہ دورہ ہند کے حصہ کے طور پر جمعرات کو حیدرآباد پہنچ گئے اور حیدرآباد کے بیگم پیٹ ایرپورٹ پر مرکزی مملکتی وزیر توانائی آرکے سنگھ اور تلنگانہ و آندھراپردیش کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے  ڈاکٹرحسن روحانی کا استقبال کیا۔

ایرانی صدر ڈاکٹرحسن روحانی اپنے سہ روزہ دورہ ہند کے موقع پر تہران سے سیدھا حیدرآباد پہنچے ۔حسن روحانی نے تہران سے روانگی سے قبل ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہند ۔ ایران تعلقات مثبت اور صحیح رخ پر جارہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ 2016 میں وزیراعظم ہند نریندر مودی کے دورہ تہران کے جواب میں ہو رہا ہے ۔ اس دورہ میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں سب سے اہم چابہار اگریمنٹ شامل ہے ۔ اس کے ذریعہ علاقائی تجارت ‘ سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹیشن کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس دوران 500 ملین ڈالر پر مشتمل سہ رخی معاہدہ طے پائے گا جو ہند ایران اور انکے درمیان ہندوستانی وساٗئل کے ٹرانسپورٹ کے لئے ہوگا جو پاکستان کے سرحد عبور کئے بغیر عمل میں لایا جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے دورہ ہندوستان کے موقع پر حیدرآباد شہر کے تاریخی مقامات بالخصوص قطب شاہی محل کا دورہ کیااور انہوں نے اسلامی تہذیب کو قریب سے دیکھا۔

صدر روحانی کا یہ دور اقتصادی و سیاسی مسائل سے ما وراء اپنے دور کے ابتدائی مرحلہ کے انتخاب کی بنیاد پر تاریخی و بے نظیر ہے جیسا کہ ہم نے اس دورہ کے سلسلہ سے گزشتہ تجزیہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا یہ دورہ دو عظیم ثقافتوں کے درمیان پائے جانے والے مضبوط رشتوں کو مزید پائدار بنانے کا سبب ہوگا اور اس دورہ کو محض اقتصادی و سیاسی نہیں کہا جا سکتا یہ تاریخی پس منظروں کا حامل ایسا دورہ ہے جس کے ذریعہ حسن روحانی نے یہ دنیا کے ان ملکوں کو ہندو ایران کی صدیوں پرانی دوستی کا آئینہ دکھایا ہے جنہیں زور زبردستی و استبداد کے ساتھ بعض مستکبر ممالک کی بیساکھیوں پر کھڑے ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری ہے اور وہ ہندوستان کو اپنا محض سیاسی اثرو رسوخ قائم کرکے اپنے جگری دوست کی حیثیت سے پیش کرنا چاہتے ہیں چنانچہ صدر ایران نے اپنے دورہ کی دہلی سے حیدرآباد کی طرف موڑ کر واضح اشارہ دیا ہے کہ ہماری مشترکہ وراثت سیاسی  جوڑ توڑ سے بہت آگے ہے اور یہ نادانی ہوگی کہ ہم اپنے صدیوں پرانے رشتوں کو جنکی جڑیں دونوں ملکوں کے عظیم تمدن و بے نظیر  ثقافتی ورثہ  میں پیوست ہیں، بھلا کر ان لوگوں کی طرف دیکھیں جنہوں نے کلچر و تہذیب کی بنیاد ہی خون خرابہ ہے ،چنانچہ نئی دہلی کو چھوڑ کر اپنے دورہ کا اولین مقصد حیدرآباد قرار دینا اس حیثیت سے قابل ملاحظہ ہے کہ یہ وہ شہر ہے جو دونوں ملکوں کی مشترکہ تہذیب کا گہوارہ رہا ہے اوریہ وہ بات ہے جسے مسلسل ذرائع ابلاغ میں بیان کیا جا رہا ہے چنانچہ بعض جرائد کی تحریروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے کالموں میں واضح طور پر اس بات کی طرف یوں اشارہ ملتا ہے کہ :  ہندوستانی ریاست تلنگانہ میں واقع حیدر آباد ہندوستان کا چھٹا بڑا شہر ہے اور یہاں موجود قدیم تاریخی مقامات اور اسلامی تہذیب ایران اور صفوی بادشاہوں کے دور کی واضح علامت ہیں۔ اس شہر کو تاریخی، سائنسی اور اقتصادی لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔  ایرانی  صدر  جمہوریہ نے اس شہر سے اپنے دورہ کا آغاز کرکے نہ صرف دونوں ملکوں کی عظیم تمدنی وراثت کو یاد رکھتے ہوئے ہندو ایران کو جہاں اپنے درخشان ماضی اور ایک دوسرے کے ساتھ وسیع پیمانہ پر تعاون کے ابواب پر دونوں ہی ملک کے عمائدین کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے وہیں  مکہ مسجد کی میناروں سے اسکتبار کے خلاف اذان دیکر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سامراج کا اگر مقابلہ کرنا ہے تو اسکی ابتداء ہر جھوٹے خدا کی نفی اور مالک کی کبریائی کے اعلان اور اس کے حضور سر تسلیم خم کرنے کے ذریعہ ہی ممکن ہے علاوہ از ایں اپنے دورہ کے ایک حصہ میں مکہ مسجد میں نماز جمعہ کو قرار دیکر صدر جمہوریہ ایران نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہماری سیاست دین سے علیحدہ نہیں ہے مکہ مسجد وہ مسجد ہے جسے قطب شاہی عہد کے پانچویں فرمانروا محمد قلی قطب شاہ نے تعمیر کرایا تھا اس عظیم الشان مسجد سے فارسی میں خطاب کے ذریعہ صدر جمہوریہ ایران نے اس عہد کی یاد بھی تازہ کرا دی جب یہاں کی زبان فارسی ہوا کرتی  تھی۔ ڈاکٹر روحانی پہلے ایرانی صدر ہیں جنہوں نے کئی صدیوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت مکہ مسجد کا دورہ کیا۔ مکہ مسجد کی تعمیر 1616-17ء میں عمل میں آئی تھی۔ یہ مسجد مشہور تاریخی مرکز بھی ہے جہاں پر ہزاروں افراد روزانہ آتے ہیں .صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے شہر حیدرآباد پہنچ کر اعلان کیا  کہ حیدرآباد اور ایران کے درمیان ثقافتی تعلقات کافی قدیم ہیں ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہند۔ایران عوام صنعت اور دیگر تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کریں۔ایرانی صدر جمہوریہ نے تاریخی مکہ مسجد سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ امریکہ میں ہوئی دہشت گردانہ کاروائی کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں ایک اسکول کے طالب علم نے اپنے ہی ساتھیوں کو گولیوں سے بھون دیا تھا چنانچہ انہوں نے مدارس تک میں دہشت کے پاوں جما لینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :

مغربی ممالک میں اجتماعی طور پر قتل عام کے واقعات پیش آتے ہیں جہاں مدارس بھی محفوظ نہیں ہے۔ یہ سب اس لئے ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتیں انسانیت کا خیال نہیں رکھتیں۔ بعض ممالک آپسی اختلافات کو بڑھاوا دیتے ہیں‘ لیکن ایران چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں امن و امان قائم ہو۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے بھارتی شہر حیدر آباد میں خطاب کرتے ہوئے دشمنوں اور صہیونیوں کیخلاف عالم اسلام کے اتحاد پر زور دیا۔تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر ‘حسن روحانی’ نے حیدرآباد کی مشہور جامع مسجد میں نماز جمعہ میں موجود نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قوم کی جانب سے دوستی اور بھائی چارے کا پیغام بھی دیا.انہوں نے اس موقع پر کہا کہ معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی مضبوطی کے لئے نماز جمعہ کا انعقاد بہت اہم ہے.

مسلمانوں کے درمیان وحدت پر نبی کریم حضرت محمد (ص) کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ باہمی وحدت کے لئے ہمیشہ دعا کریں. مسلمان ہر وقت اللہ رب العزت سے دعا مانگیں گے اللہ ظالموں کو ہدایت دے.انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج عالم اسلام کے کسی معاشرے یا جگے میں کوئی مشکل پیدا ہوئی ہو تو اس کی وجہ اسلام کی تعلیمات پر عمل نہ کرنا اور اصل اسلام کو قائم نہ کرنے سے ہے.

اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا عظیم سرمایہ اخلاق و کردار ہے حضور اکرمؐ نے بھی ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے ڈاکٹر روحانی نے  کہا کہ حقیقی اسلام یہی ہے کہ اسلام صداقت کی تعلیم دیتا ہے یہی ہمارے لئے نجات کا راستہ ہے۔ اخلاق محمدیؐ کی پیروی میں ہی نجات کا راستہ ہمارے لئے مضمر ہے۔  حسن روحانی نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سارے عالم میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے اور روشن رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلمان جسد واحد کی طرح مزید متحد و مستحکم ہوجائے ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں اور تمام انسانیت کا احترام کریں .مکہ مسجد میں دہشت گردی کے موضوع پر عالمی استکبار کو آڑے ہاتھوں لیکر امن و بھائی چارہ کی بات کرنا اس لئے بھی اہم تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم اپنے دورہ ایران میں انہیں باتوں پر تاکید کر کے گئے تھے اور وزیر اعظم سے رہبر انقلاب اسلامی کی ملاقات میں یہ موضوع  گفتگو کی بنیاد قرار پایا تھا چنانچہ جب ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کا دورہ کیا اور انکی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات ہوئی تو اس میں رہبر انقلاب نے دہشت گردی کے ساتھ مقابلے میں مغربی اتحاد میں شامل نہ ہونے کو ہندوستان کے استقلال کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا تھا: دہشت گردی کا سنجیدگي کے ساتھ مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بھی دونوں ممالک  باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں کیونکہ مغربی ممالک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سنجیدء نہیں ہیں ۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر  افغانستان ، عراق اور شام میں دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دیا اور دہشت گرد گروہوں کو تشکیل دینے والے ممالک سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

اس گفتگو کو سننے کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نے دہشت گردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا تھا کہ  بعض ممالک دہشت گردی کو اچھے اور برے میں تقسیم کرتے ہیں اور دہشت گردی کا سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرتے بلکہ صرف باتیں کرتے ہیں۔

ہندوستانی وزیر اعظم نےاس وقت یہ بھی کہا تھا کہ دین اسلام دین عشق و محبت ہے اور اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزیر اعظم  نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ دہشت گردی کا سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کا سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کرنے والے ممالک کو مشترکہ تعاون پر توجہ مبذول کرنی چاہیے صدر جمہوریہ ایران نے بھی گو کہ مکہ مسجد میں انہیں باتوں کو دہرایا جنہیں ہندوستانی وزیر اعظم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے کر چکے تھے ،مجموعی طور پر ایرانی صدر کا حیدرآباد کا یہ دورہ کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا اور تہذٰیبی و فرہنگی دسترخوان پر دونوں ہی قوموں کو وہ سب کچھ ملا جو انکا حق تھا اور دونوں ہے بہترثقافتی تعلقات کی ایک گہری بنیاد بھی پڑی  اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی نو میں سیاسی دسترخوان پر کسے کیا ملتا ہے ۔

منبع: جاثیہ نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲