31 دسمبر 2017 - 16:57
اسلامی دنیا کا سیاسی تجزیہ، علامہ جواد نقوی کی زبان سے

سال ۲۰۱۷ میں سب سے اہم ترین ویادگار کام کہ جس میں اللہ تعالیٰ کا لطف شامل حال ہوا ہے وہ فتنہ داعش کی کمر ٹوٹنا ہے اور اس کا خاتمہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ثقافتی صفحات/                                                                     
                                                                                                                                                                                
۲۰۱۷ میں داعش کا خاتمہ اور ٹرمپ کی سفاکی:
حالات حاضرہ میں جو سب سے اہم اس ہفتے گفتگوبنتی ہے وہ ہے سالِ ۲۰۱۷  جواپنے اختتام کوپہنچ رہا ہے اور نیا سال ۲۰۱۸ شروع ہونے والا ہے تو ایک جامع تحلیل سال ۲۰۱۷ کی کہ  یہ سال کیسے گزرا ہے اور کیااس میں صورتحال رہی ہے مختلف خطوں کی ۔پاکستان میں ، پاکستان  کے پڑوس میں  ا،ارد گرد میں،  اندرونی مسائل میں،بیرونی مسائل میں اور مسلمانو ں کیلئے  عالمی مسائل میں کہ جس میں اہم ترین واقعات رو نما ہوئے ہیں ہر دو پہلو سے ۔

 سال ۲۰۱۷ میں سب سے اہم ترین ویادگار کام کہ جس  میں اللہ تعالیٰ کا لطف شامل حال ہوا ہے وہ فتنہ داعش  کی کمر ٹوٹنا ہے اور اس کا خاتمہ ہے،خاتمہ اس معنیٰ میں کہ ان کا تسلط ختم ہوا ہے  وجود ابھی ہے ان کا لیکن ان کا تسلط ختم ہوا ہے جو بہت  عظیم فتنہ اور اندھا فتنہ شروع کیا گیا تھا تمام ظالمین و  روئے زمین کے تمام ظالمین  سب ملکراس فتنے میں ملوث ہوئے اور داخل  ہوئے  ۔اس فتنہ کو اللہ نے ختم کیا  اور بعض مجاہدین کی ہمت اور ان کی کوششوں سے (اللہ نے   انہیں یہ توفیق دی) اور یہ  ایک  بہت بڑا واقعہ ہوا ہے  کہ جس سے پورے جہانِ کفر و نفاق کی رسوائی ہوئی ہے ۔اور اسی طرح اس سے بڑا فتنہ داعش سے بڑا فتنہ  جو ۲۰۱۷  میں قائم ہوا ہے وہ امریکہ میں جو نیا   صدر (ٹرمپ) آیا ہے ۔اس کی شکل میں جو منحوس ترین انسان تاریخِ بشریت کا  حکومت پر پہنچا ہے اور جس کے عزائم ہی  اسلام دشمنانہ ہیں ۔اور جس کا منحوس ترین ایک اقدا م قدس کے متعلق ہے ویسے تو اس کا ہر قدم ہی منحوس تھا ۔سب سے زیادہ  نحوست اس شخص کی ہے اور منحوس ترین شخص ہے روئے زمین پر اور  نحس ہے یہ۔ اور اس کی نحوست کے  اقدامات میں سے قدس کے متعلق اس کا فیصلہ تھا کہ  اسرائیل کا دارالخلافہ ہے اور اپنا  سفارت خانہ وہاں منتقل کرانا چاہتا ہے ۔اور ہر خطے میں ناگوار و گوارا ہر قسم  کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی پہلو ایسے ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت دی ہے اور کئی پہلو ایسے ہیں کہ  جہاں مشکلات بھی کھڑی ہوئی ہیں۔یہ ایک جامع تحلیل چاہیے ۲۰۱۷ کیلئے  اور پھر آگے ۲۰۱۸ میں جو ہونے والا ہے خصوصی طور پر پاکستان میں کہ جس میں سر فہرست انتخابات ہیں ۔

پاکستان میں  شیعہ سب سے زیادہ نقصان پذیر طبقہ:

 جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا  ہے کہ فتنہ آمیز و فتنہ انگیز  انتخابات آرہے ہیں جن کےلیئے  بھرپور تیاریاں ہیں غیر معمولی تیاریاں انتخابات میں ملتِ پاکستان کیلئے ہورہی ہیں اور اس میں جو زیادہ نقصان پذیر قومیں  ہیں جیسے کچھ طبقات ہوتے ہیں جو زیادہ آسِیب پذیر  اور نقصان پذیر ہوتے ہیں مثلا جب سیلاب آتا ہے تو پکی کوٹھیاں و بنگلے بچ جاتے ہیں اور کچے جھونپڑے ویران ہوجاتے ہیں،جب فصلیں آتی ہیں تو بالائی علاقے سیلابوں میں بچ جاتے ہیں اور نشیبی علاقے زیرِآب آجاتے ہیں،جب زلزلے آتے ہیں تو پکی عمارتیں بچ جاتی ہیں اور کچی عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں۔ہر آفت اور فتنے میں کچھ ایسے شعبے ہوتے ہیں کہ جو  نقصان پذیر ہیں ،ضرر پذیر ہیں یعنی نقصان اٹھانے کیلئے تیار ہیں انہیں  جلدی نقصان ہوگا اور کچھ ایسے ہیں جو ایسے موقعوں پر  اپنے آپ کو قائم  رکھتے ہیں ۔اس ترتیب کے لحاظ سے اگر ہم دیکھیں  تو پاکستان میں سب سے زیادہ نقصان پذیر و آسِیب پذیر شیعہ ہے پاکستان کے اندر اور جب فتنہ  اٹھتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان ان کو ہوتا ہے یہ وہ کچی آبادی ہے جو عموما سیلابوں اور زلزلوں میں  جو اجتماعی طور پر پاکستان میں شروع ہوتے ہیں اس کی زد میں آجاتی ہے یہ آبادی  اور اگر یہ نہ بھی آ رہی ہو تو   جیسے بعض کچی آبادیاں ہوتی ہے  سیلاب کے راستے سے دور ہوتی ہیں لیکن اس کے لیڈر اٹھا کر اسے  سیلاب کی راہ میں لے آتے ہیں کہ یہاں آجائو تم ۔بعض وقت ہوتا ہے انسان محفوظ ہوتا ہے سیلاب کی زد میں  نہیں ہوتا لیکن کوئی لیڈر ہوتا ہے ایسا کہ جو اپنی خاص حوس  رکھتا ہے  وہ ساری قو م  کو قبیلے  کو اس نشیبی علاقے میں لاکر بٹھا دیتا ہے  جہاں سے یہ ریلہ گزرنا ہے ۔
بحر کیف یہ خطرات جو تھے پوری دنیا میں ایک دفعہ پھر پاکستان کا رخ کر رہے ہیں  اور پاکستان  آمادہ ہورہا ہے یعنی پاکستان کو آمادہ  کیا جا رہا ہے ۔سیاسی نا پائیداری اپنے اوج پر  جا پہنچی ہے جوڑ توڑ سختی سے شروع ہے  بیرونی مداخلت بے رحمانہ طریقے سے ہورہی ہے  پاکستان کے اندر۔حتی وہ ممالک جو اپنے ہاں  جیسے آل ِسعود ہیں انکا اپنا نظام درہم برہم ہے  اور وہ روزانہ پاکستان کے حکمرانوں کو  فون کال کرکے ،بلا کے پاکستان کے مسائل میں مداخلت کرتے ہیں ،اس قسم کی حرکتیں ہورہی ہیں اور ابھی بھی بعض پاکستانی حکمران وہاں گئے ہوئے ہیں آلِ سعود سے تلقین لینے کیلئے جنہونے اپنا  نابود کیا ہوا ہے سب  سلسلہ اور جو خود ایک بہت بڑے فتنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ،ٹرمپ کے فتنے کی اور  صیہونی فتنے کو تکمیل  کرنے کیلئے آلِ سعود خود انتخاب ہوئے ہیں  اور وہ آلِ سعود اب  پاکستان سے اپنے چیلے اور مہرے چن رہے ہیں  کہ اس فتنے میں پاکستان کو اپنے ساتھ شامل رکھیں  ۔
یہ مسائل  ہیں جو آئندہ کیلئے ہونے جارہے ہیں یعنی ۲۰۱۸ کیلئے ۔چونکہ آج تاخیر سے خطاب شروع ہوا ہے  انشاء اللہ  اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق  دی تو  اثنائے ہفتہ میں یا آخر ہفتہ میں اگلے جمعہ کو  ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۸ کے حالات کے متعلق  انشاء اللہ عرض کرینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲