22 دسمبر 2017 - 12:46
ایران کے خلاف امریکی حکام کی ایک بار پھر ہرزہ سرائی

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایران کے خلاف امریکی حکام کی ہرزہ سرائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تہران کو سعودی عرب کے خلاف یمنی فوج کے انیس دسمبر کے میزائل حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائل یونٹ نے سعودی حکومت کے مجرمانہ اقدامات اور جارحیت کے جواب میں انیس دسمبر کو ایک بیلسٹک میزائل ریاض کے الیمامہ محل کی جانب فائر کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے ایران کو اس حملے کا ذمہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے تہران کے خلاف ٹھوس اقدام کی اپیل کی ہے۔
اقوام میں متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے بھی نے اس سے قبل الزام لگایا تھا کہ ایران نے ریاض پر حملے کے لیے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس انصاراللہ کو میزائل فراہم کیے ہیں تاہم انہوں نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا کہ امریکہ یمنی عوام پر بمباری کی غرض سے سعودی عرب کو اسحلہ، لاجسٹک سپورٹ اور سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل جیفری فلیٹ مین دونوں نے امریکی مندوب کے اس دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔
سعودی عرب نے امریکہ کی بھرپور حمایت سے یمن کو پچھلے تین برس سے جارحیت کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس ملک کا زمینی، سمندری اور فضائی محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت میں ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی لاکھ لوگوں کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یمنی حکام بارہا یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی دفاعی طاقت مکمل طور پر دیسی ہے جسے انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے اپنے ملک کے محاصرے کے دوران خود تیار کیا ہے۔سعودی حکام بدستور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایران یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کو میزائل اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے لیکن وہ اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
یمن کے خلاف تمام تر جارحیت اور جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود سعودی حکام اور ان کا اتحادی امریکہ، اپنا ایک بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

.......

/169