25 نومبر 2017 - 16:10
علامہ نیاز نقوی: ناصر عباس شیرازی سمیت تمام بے گناہوں کو رہا کیا جائے

علی مسجد جامعہ المنتظر ماڈل ٹاؤن میں خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ داعش کی سفاکیت نہایت لرزہ خیز ہے، انسانوں کی کھال اُتارنا، زندہ جلانا، عورتوں اور بچوں کے وحشیانہ قتل کی ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، ہماری فوج اور حکومت بھی شکریہ کی مستحق ہے جس نے داعش کا راستہ روکا، البتہ مفرور داعشی دہشتگردوں کو وطن عزیز میں داخل ہونے سے روکنے اور یہاں ان کے چند حامیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے واضح کیا ہے کہ عزاداری تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ ہے، جو مکتب اہلبیت کے اثاثے کی شکل میں موجود ہے مگر منبر حسینی کی اصلاح کی ضرورت ہے، کیونکہ کچھ جاہل لوگ توحید کیخلاف باتیں کرنے کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں اور مکتب تشیع کے اصل عقائد کو مسخ کرکے پیش کر رہے ہیں، اس روش کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا، ایسے عناصر یزیدی ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علما، عوام اور خود بانیان مجالس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شرپسند مقررین کی حوصلہ شکنی کریں، شام اور عراق سے داعش کا خاتمہ خوش آئند ہے، پاکستان میں داعش کا راستہ روکنے پر حکومت اور افواج پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ عراق اور شام سے داعش کا خاتمہ بلا شبہ فتح مبین ہے جو لشکر اسلام کو حاصل ہوئی ہے، عراق، شام، لبنان کی حکومتوں اور عوام کی شجاعت و استقامت سے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا گیا۔

انہوں نے کہا داعش کی سفاکیت نہایت لرزہ خیز ہے، انسانوں کی کھال اُتارنا، زندہ جلانا، عورتوں اور بچوں کے وحشیانہ قتل کی ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، ہماری فوج اور حکومت بھی شکریہ کی مستحق ہے جس نے داعش کا راستہ روکا، البتہ مفرور داعشی دہشتگردوں کو وطن عزیز میں داخل ہونے سے روکنے اور یہاں ان کے چند حامیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی وزیراعظم سعد رفیق الحریری کا سعودی عرب جا کر استعفیٰ دینا لبنان کو کمزور کرنے کا منصوبہ تھا، ان کی وطن واپسی سے توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کسی بھی قسم کے بحران سے محفوظ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھرنے پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے، مسئلے کا پُرامن حل نکالا جانا چاہیے تھا، چاہے کسی وزیر کو فارغ کرنے سے ہی یہ مسئلہ حل ہوتا پُرامن طور پر حل ہونا چاہے تھا۔ علامہ نیاز نقوی نے مطالبہ کیا کہ جبری لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے اور جرم بتایا جائے، ناصر عباس شیرازی سمیت تمام بے گناہوں کو رہا کیا جائے، کسی شہری کو سڑک سے اٹھانا اور غائب کر دینا کسی لحاظ سے درست اقدام نہیں۔

.......

/169