اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ کےاستاد حجۃ الاسلام والمسلمین سید محسن محمود گلپایگانی نےکہا ہےکہ اسلام کی نگاہ میں ایک حقیقت یہ ہےکہ خانہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ مسجد الحرام اورخانہ کعبہ اپنی بےمثال خصوصیات رکھتا ہے، دحوالارض میں زمین کا جوٹکڑا پانی سےباہرنکلا تھا وہ جگہ ہےکہ جہاں پرخانہ کعبہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
ورامین شہرکےامام جمعہ نےخانہ کعبہ کی دیگرخصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ کعبہ کی دیگرخصوصیت یہ ہےکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ گاہ اورتوحید کا گھرہے۔ حرم الہی کا ایک حکم یہ ہےکہ اس جگہ پرکسی کوحق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو نقصان پہنچائے، کسی انسان کا خون بہائے یا ظلم وجرم کا ارتکاب کرے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ اللہ تعالیٰ بہت سی آیات قرآن کریم میں خانہ کعبہ کی حرمت اوراہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت نمب97 میں فرمایا ہے:«جعل الله الکعبه البیت الحرام قیاما للناس) اللہ تعالیٰ نے کعبہ اورمسجد الحرام کو دین کے استحکام کا سبب قراردیا ہے اورقوام سے مراد یہ ہے کہ کعبہ کے ذریعے اس کے پیروکاروں کے درمیان دین اسلام استوارہے۔ ایک اورآیت میں ہے کہ ہم نے اس مکان کو امن کی سرزمین قراردیا ہے۔
حوزہ علمیہ کےاستاد نےکہا ہےکہ مختلف طریقوں کے ذریعےحرم امن الہی کی حرمت کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ خانہ کعبہ کے احترام کا ایک پہلو اورفروع دین کی ایک اہم شاخ حج کےاعمال ہیں۔ اسلامی احکام کی بنا پرہرصاحب استطاعت شخص پرواجب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ مکہ جاکرحج بجالائے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ افسوس سےکہنا پڑتا ہےکہ آج آل سعود اپنے آپ کو خادم الحرمین قراردیتی ہے اورخانہ کعبہ کی بےحرمتی کرتی ہے کہ جس کی ایک مثال سعودیوں کا خانہ کعبہ کے زائرین اورحاجیوں کے ساتھ بدتمیزی کرنا اوران کا احترام نہ کرنا ہے۔
یونیورسٹی کے استاد نےکہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک روایت میں مومن کی وضاحت کرتے ہوئےفرمایا ہے: (الایمان معرفۃ بالقلب واقرارباللسان وعمل بالارکان)۔ یعنی ایمان کے تین مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ، قلبی اورباطنی معرفت ہے، مومن انسان اپنے دل میں اللہ کی معرفت رکھتا ہےاوراس پرایمان رکھتا ہے۔ دوسرا مرحلہ، زبان کے ذریعے اقرارہے اورایمان کا تیسرا مرحلہ عمل ہے۔ مومن وہ ہےکہ جس کا ایمان اس کےاعضاء وجوارح سے ظاہرہو۔
.......
/169