اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک انٹرویو میں ’’محمد عبدالرشید‘‘نےکہاکہ ریاست راخین میں روہنگیائی مسلمانوں کےخلاف تشدد کو رکوانے کیلئے میانمار حکومت کےخلاف امریکی پابندیاں اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہونگی جب تک چین ،روس اورہندوستان کے علاوہ آسیان ممالک آنگ سانگ سوچی پر دباؤ نہیں ڈالتے۔
انہوں نےکہاکہ میانمار پر ممکنہ امریکی پابندیوں سے علاقائی ممالک خاص ہندوستان کہ جس نے میانمار میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے متاثر ہوگا ۔
انہوں نےکہاکہ ان کا ملک روہنگیائی مسلمانوں کےمسئلے کو پرُامن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے تاہم ہر گذرتے دن کےساتھ ڈھاکہ کے پاس آوپشنز محدود ہوتی جارہی ہیں ۔
انہوں نےکہاکہ روہنگیائی مسلمانوں کے تئیں چین اورروس کے موقف کے باعث اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل روہنگیائی مسلمانوں کی صورتحال کو روکنے کیلئے سخت کاروائی کرنےسے قاصر ہے۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ کی طرح یورپی یونین بھی یکطرفہ طورپر حکومت میانمار پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے علاقائی اورغیر علاقائی طاقتوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کے مستقل نمائندے شمیم احسان نے اپنے حالیہ بیان میں کہاکہ میانمار حکومت کےدعوؤں کے برخلاف ریاست راخین میں مسلمانوں کا قتل عام ابھی بھی جاری ہے۔
انہوں نےکہاکہ حکومت میانمار مسلسل روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہے ہزاروں روہنگیائی مسلمان روزانہ کی بنیاد پر بنگلہ دین کی سرحد کی طرف رُخ کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت میانمار کا اسطرح کا رویہ روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلے کو حل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
واضح رہےکہ رواں سال کے آوائل میں میانمار کی راخین ریاست کے مسلمانوں کے خلاف شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد تقریباً پانچ لاکھ روہنگیائی مسلمانوں نے بنگلہ دیش نقل مکانی کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲