اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صہیونی ریاست کا بدنام زمانہ خفیہ ادارہ موساد بیرون ملک جامعات میں زیرتعلیم اسرائیلی طلبا کو اپنا ایجنٹ بھرتی کررہی ہے۔
بیلجیئم کی ایک یونیورسٹی سے وابستہ "مارین بلوم" نامی ایک خاتون پروفیسر کا کہنا ہے کہ بیلجیئم میں مختلف جامعات میں زیرتعلیم بیشتر طلبا موساد کے ایجنٹ ہیں۔
بیلجین دانشور اور پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 1995 سے 2005 تک کا عرصہ غزہ کی پٹی میں گذارا ہے اور وہ ایک اہم راز سے پردہ اٹھا رہی ہے وہ یہ کہ اسرائیل بیلجیئم کی جامعات میں زیرتعلیم طلبا کو اپنے جاسوسوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
مارین نے بیلجیئم کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعاون ختم کرے اور اسرائیل سے طلبا کو اپنے ہاں جامعات میں داخلہ دینے پر پابندی عائد کرے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اپریل میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ یورپی ممالک اسرائیلی طلبا کے حوالے سے محتاط ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ یورپی ملکوں کی جامعات میں زیرتعلیم اسرائیلی طلبا موساد کے جاسوس ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب سنہ 2012 کے اوائل میں انتفاضہ آن لائن نامی ویب سائیٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر کی کئی جامعات میں اسرائیلی طلبا ایک ہفتے میں اسرائیل کی حمایت میں سوشل میڈیا پر 5گھنٹے سرگرم رہنے کے عوض موساد سے 2000 ڈالر وصول کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲