اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امام کعبہ کا کہنا ہے کہ دنیاوی مصلحتوں کے تحت اہل مغرب کے ساتھ تعلقات کو جوڑا جاسکتا ہے لیکن دینی طور پر غیرمسلم ریاست کے ساتھ تعلقات رکھنا درست نہیں۔
امام کعبہ شیخ صالح عبداللہ بن حمیدنے کہاہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والا اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف نہیں، یہ اسلامی ممالک کومتحد رکھنے کیلئے ہے، اسلامی ملک میں کسی ایک فرد یا تنظیم کو جہاد کا اختیار نہیں ہے، جہادکافیصلہ اسلامی ریاست کرتی ہے۔
اتوار کو نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں امام کعبہ شیخ صالح عبداللہ بن حمیدنے کہاہے کہ میں چھٹی یاساتویں مرتبہ پاکستان آیاہوں، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیراہتمام کانفرنس میں شرکت کی غرض سے پاکستان آیاہوں۔
انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کودرپیش مشکلات کی اصل وجہ آپس میں اختلافات اورفرقہ واریت ہے،کلمہ حق پرعمل کرکے فرقہ پرستی کاخاتمہ ممکن ہے، داعش اور القاعدہ کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ تنظیمیں اسلام کوبدنام کررہی ہیں، امام کعبہ نے کہاکہ جہاداسلامی تعلیمات کااہم رکن ہے، جہادمنظم اسلامی امام اورحاکم وقت کے ماتحت کیاجاسکتاہے ،اس سے ہٹ کرکوئی جہادکرے تووہ جہادنہیں ہوگا،طاقت سے برائی روکنے کااختیاراورذمہ داری حاکم وقت اورریاستی اداروں کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں انفرادی اورتنظیمی جہادکی کوئی گنجائش نہیں ہے، چاہے کوئی اسلامی ملک کتناہی کمزورکیوں نہ ہو،بہت سے اسلامی ممالک میں انفرادی یاتنظیمی جہادکی وجہ سے ہی غیرملکی طاقتوں کوداخل ہونے کاموقع ملا۔
شیخ صالح عبداللہ بن حمیدنے کہاکہ دنیاوی مصلحتوں کے تحت اہل مغرب کے تحت تعلقات جوڑاجاسکتاہے۔ دنیوی طورپرغیرمسلم ریاست کے ساتھ تعلقات رکھنادرست نہیں ،مصلحتیں کسی ملک کی ذاتی کمزوراورطاقت کی بناء پرہوئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی ریاست میں ایساجائزنہیں کہ کوئی بھی فرد اٹھے اور کسی پر کفر کا فتویٰ لگا دیں، اگرکسی پر کوئی الزام لگتاہے تومعاملہ پہلے عدالت میں جاتاہے، عدالت الزام ثابت کرے تو اس پر فتویٰ حکومت لگاتی ہے۔
امام کعبہ نے کہاکہ میرے خیال میں اسلامی ممالک کاکسی بھی قسم کاکوئی بھی اتحاد ہو وہ خوشی کی بات ہوگی۔ میرے پاس سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی اتحاد کی زیادہ تفصیلات نہیں ہیں کیوں کہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے، اگر یہ اتحادسعودی عرب کے بجائے کسی اور ملک کی سربراہی میں بنتا تب بھی میں اس کوخوشی کی نظرسے دیکھتا، اس طرح کہ اگر اور بھی اتحاد بنیں جو مسلم ممالک کو جوڑنے کاسبب بنیں تو اس کو اچھی نظرسے دیکھناچاہئے۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی ممالک کے اتحادکے بارے میں بدگمانی نہیں ہونی چاہئے یہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ اتحادمسلمان ممالک کواکٹھا رکھنے کیلئے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲