23 اکتوبر 2017 - 17:50
وہ شخص کہ جس نے چھپ کر اسرائیل کا دورہ کیا تھا وہ محمد بن سلمان تھا

القدس العربی نے ریاض کے حکام کے ان دعووں کو کہ ان کے بین الاقوامی ارتباطات بالکل شفاف ہیں غلط ثابت کر دیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن میں چھپنے والے القدس العربی کے انٹرنیٹ کے شعبے نے اپنے آج کے فرنٹ پیج کے مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے اس ملک کے کسی حکمران کے مخفیانہ طور پر اسرائیل کے دورے کے اقدام کی خبر کو رد کیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ یہ خبر ایک دم جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

یہ خبر چھ ہفتے پہلے ۷ ستمبر کو منتشر ہوئی تھی اور سعودی عرب نے اس خبر کو چھ ہفتے گذرنے کے بعد جھٹلایا ہے ۔ یہ خبر اسرائیل کے سرکاری ریڈیو پر منتشر ہوئی تھی اور اس ریڈیو کے خبر نگار شمعون اران نے اس کو عربی زبان میں بیان کیا اور تاکید کی کہ سعودی عرب کے شاہی دربار  کے ایک شہزادے نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کیا اور علاقے میں صلح کے  آئیڈیے  کو فعال بنانے کے بارے میں اسرائیل کے اعلی حکام کے ساتھ گفتگو کی ۔

کچھ ہی دیر  بعد آریل کھانا نام کے ایک اسرائیلی  روزنامہ نگار کے ٹویٹ نے کہ جو مجلہء ماکورریشون سے ہے اس شہزادے کا بھانڈا پھوڑ دیا اور تاکید کی  کہ جس شہزادے نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا وہ سعودی عرب کا ولی عہد محمد بن سلمان تھا۔

کھانا کے ٹویٹ کے ۴۵ منٹ بعد کہ جو دس ستمبر ساڑھے پانچ بجے منتشر ہوا تھا ایک اور اسرائیلی روزنامہ نگار تارنو بو لوسکی کا ٹویٹ ٹویٹر پر ظاہر ہوا اور اس کے بعد ایک ٹویٹر والے نے کہ جس کے بارے میں مطبوعاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ امارات کی سیکیوریٹی سے تھا لکھا : جناب شہزادہ محمد بن سلمان اور جنرل انور عشقی اور ان کے ساتھ ایک مکمل جماعت نے مخفیانہ طور پر اسرائیل کا دورہ کیا ۔

فرانس نیوز ایجینسی نے گذشتہ جمعے کے دن ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے کہ جس کا نام اس نے نہیں بتایا اعلان کیا کہ وہ سعودی حکمران کہ جس نے گذشتہ ستمبر میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا وہ محمد بن سلمان تھا ۔

علاقے کے بہت سارے مبصرین اور سیاستمداروں نے اس سے پہلے کہ ریاض اس خبر کی تکذیب کرے انہوں نے بعید سمجھا تھا کہ اسرائیل کا مسافر محمد بن سلمان ہو گا ۔ لیکن اس پوری مدت میں اس خبر سے ریاض کی بے اعتنائی نے ان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ، یہ وہ رد عمل ہے کہ جس نے ایک بار پھر سعودی عرب اور اسرائیل کے تال میل کے بارے میں شک و تردید کو نمایاں کر دیا ہے ۔

 یہ واقعات سعودی عرب کے اس دعوے کو توڑتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے روابط اور اپنی نقل و حرکت میں شفاف رہا ہے اور اس سلسلے میں اس کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲