اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی جاہلانہ تقریر کے فورا بعد مغربی ملکوں اور یورپی یونین نے اپنا ردعمل ظاہر کیا اور ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران مخالف تقریر کے فورا بعد ایک مشترکہ بیان میں ایٹمی معاہدے کی حمایت اور اس پر کاربند رہنے نیز سبھی فریقوں کی جانب سے اس پر عمل درآمد کئے جانے پر زور دیا ہے۔
فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایٹمی معاہدہ ان کی قومی سلامتی کے مفادات کے مطابق ہے۔ فرانس کے صدر امانوئیل میکرون ، برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے اور جرمن چانسلر انجلا مرکل نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران مخالف تقریر کے فورا بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایٹمی معاہدے کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدہ تیرہ سالہ سفارتکاری کا نقطہ عروج اور عالمی امن و سلامتی کی ضمانت کے لئے ایک بڑا قدم ہے۔
یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کی تقریر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کوئی دوطرفہ معاہدہ نہیں ہے اور کسی ایک خاص ملک سے اس کا تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے ختم کردے - فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایک چندجانبہ معاہدہ ہے جس کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے ذریعے تصدیق کی گئی ہے اور اس معاہدے میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پوری طرح پر امن مقاصد کے لئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین عالمی برادری کے سبھی ارکان کے ساتھ سب کے مفادات منجملہ ایران کے مفادات کے لئے اس معاہدے کی حفاظت کی پابند ہے۔
اٹلی کے وزیراعظم پاؤلو جنٹیلونی نے بھی ٹرمپ کی تقریر کے بعد کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے کے ممکنہ نتائج پر فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے اٹلی بھی ان تینوں ملکوں کی تشویش میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے کی حفاظت کہ جس کی سب نے تصدیق اور سلامتی کونسل کی قرارداد نے بھی تائید کی ہے مشترکہ طور پر قومی سلامتی کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہے۔
روس نے بھی ایران اور ایٹمی معاہدے کے خلاف ٹرمپ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے پہلے والی پوزیشن کی طرف واپس لوٹنا اور ایران پر پابندیاں عائد کرنا نا ممکن ہے
روسی وزارت خارجہ نے ایران مخالف امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لئے اس طرح کی کوششیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتیں۔
روسی وزارت خارجہ نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دھمکی آمیز اور دشمنانہ زبان کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو جو خود ایٹمی معاہدے کا پابند ہے اس کی حفاظت کی پوری کوشش کرےگا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی ٹرمپ کی تقریر کے ردعمل میں کہا کہ اقوام متحدہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے کہاکہ سیکریٹری جنرل انٹینو گوترش کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایٹمی معاہدے کی حمایت جاری رکھے گا۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹرجنرل یوکیا آمانونے بھی ٹرمپ کی تقریر کے بعد کہا کہ اس ایجنسی نے ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی نظارت کی ہے اور ایران نے معاہدے پر عمل کیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر ننسی پلوسی نے بھی ایٹمی معاہدے سے نکل جانے پر مبنی ٹرمپ کی دھمکی کے بارے میں کہاکہ اس طرح کا فیصلہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی جس سے امریکا کی سلامتی کو نقصان پہنچےگا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویّہ انتہائی بچکانہ ہے۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے جمعے کو ایران کے بارے میں اپنی نام نہاد اسٹریٹیجی کا مسودہ عام کیا اور اس کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایرانی عوام کے خلاف ایک بار پھر بیہودہ اور بے بنیاد الزامات عائد کئے انہوں نے اپنی تضاد بیانی میں کہاکہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی پابندی نہیں کی ہے اور وہ دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے ٹرمپ نے سپاہ پاسداران پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایسی حالت ہے کہ ٹرمپ اس سے پہلے خود بارہا کہہ چکے ہیں کہ داعش کو امریکا کی سابقہ حکومت نے تشکیل دیا ہے - ٹرمپ کی تقریر کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲