10 اکتوبر 2017 - 12:37
امریکا کی سابق وزیرخارجہ: ٹرمپ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ خطرناک صدر

امریکا کے سابق سینیئر سفارتکاروں نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر پابندی کے تعلق ایران کے خلاف منفی رپورٹ پیش کرکے صدر ٹرمپ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کریں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے بہتر کوئی بھی دوسرا آپشن واشنگٹن کے سامنے نہیں ہے جبکہ امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ ونڈی شرمین نے بھی کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے پر ایران کی پابندی کی تصدیق نہ کی تو وہ بڑی غلطی کا ارتکاب کریں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ایڈم ارلی نے بھی  کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے ایٹمی معاہدے سے بہتر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے اور امریکا اس معاہدے سے باہر نہیں نکلے گا۔امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ایڈم ارلی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران سے دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے کہا کہ اس سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا اور عالمی سطح پر امریکا کے الگ تھلگ پڑجانے کے علاوہ اس کا اور کو‏ئی نتیجہ نہیں نکلےگا۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئی اے ای اے اور یورپی ملکوں کو اس بات پر مطمئن کرسکے گی کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی پابندی نہیں کی ہے لہذا معاہدے کو ختم کردینا چاہئے۔

امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ایڈم آرلی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی کانگریس ایران پر پابندیاں عائد کرے گی تو ایران ایٹمی معاہدے سے نکل جائے گا اور اس سے بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔

امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ ونڈی شرمین نے بھی کہا ہے کہ امریکی صدر اگر ایٹمی معاہدے پرایران کی عدم  پابندی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں تو ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کریں گے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز میں چھپے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اس حقیقت کے بعد بھی کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ایران کے سلسلے میں منفی رپورٹ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ونڈی شرمین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی قومی سلامتی کی ٹیم کے اہم ترین ارکان نے کھل کر کہا ہے کہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اور آئی اے ای اے نے بھی جو ایٹمی معاہدے کی نگرانی کی ذمہ دارہے گذشتہ دوبرس کے دوران اپنی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔

ونڈی شرمن نے کہا کہ ٹرمپ ایٹمی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں ذمہ داریوں کوقبول کرنے کے بجائے اس سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس ممکنہ فیصلے کے نتائج کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے امریکا پر اس کے اتحادیوں کا اعتماد اٹھ  جائے گا اور واشنگٹن عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑجائےگا۔

دوسری جانب امریکا کی سابق وزیرخارجہ اور سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی ٹرمپ کو امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ خطرناک صدر قراردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرمپ اشتعال دلاتےہیں اور خود بھی اپنے کنٹرول میں نہیں رہتے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ بارہ اکتوبر  کو ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے فیصلے سے کانگریس کو آگاہ کریں گے اور ایران کے سلسلے میں امریکا کی مستقبل کی حکمت عملی کا بھی اعلان کریں گے۔

.......

/169