8 اکتوبر 2017 - 17:02
ایران مخالف نئی پابندیاں جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے مترادف ہیں: جنرل جعفری

ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے قانون کا نفاذ امریکہ کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے مترادف ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے قانون کا نفاذ امریکہ کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے مترادف ہے.

یہ بات پاسداران اسلامی انقلاب فورس (IRGC) کے سربراہ میجر جنرل 'محمد علی جعفری' نے اتوار کے روز آئی آر جی سی اسٹریٹجک کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بیوقوفانہ حرکتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اپنی دفاعی اور میزائل صلاحیت بالخصوص خطے میں اپنے اثرورسوخ میں مزید اضافہ کرے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ درست نہیں اور اب 'کاتسا' نامی قانون (سختی ترین پابندیاں کے نفاذ) کے اجرا سے امریکہ نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی ہے.

جنرل جعفری نے کہا کہ پہلے بھی اعلان کرچکے تھے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگائیں تو خطے میں امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں سے بچ نہیں پائیں گے کیونکہ ہمارے میزائل دو ہزار کلومیٹر تک اپنے اہداف کو صحیح طریقے سے نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے کچھ بیوقوفانہ خبریں آرہی ہیں کہ وہ ایران پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینا چاہتا ہے، اگر ایسا ہوا تو ہم بھی امریکہ کو پوری دنیا میں بالخصوص مشرق وسطی کے خطے میں داعش کے برابر سمجھیں گے.

میجر جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ امریکہ نے غلط راستہ انتخاب کیا ہے جبکہ اس کیا خیال تھا کہ ایران علاقائی معاملات پر امریکہ سے مذاکرات کرے گا مگر یہ اس کی بھول ہے اور ہم علاقائی معاملات پر کسی طرح کے مذاکرات کرنے کے خواہاں نہیں ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ نئی امریکی پابندیوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جوہری معاہدہ بے فائدہ تھا اور ہمیں تجربہ ہوا کہ امریکیوں کے لئے مذاکرات کا مقصد مسائل کا حل نہیں بلکہ دشمنی اور دباو کو بڑھانا ہے.

جنرل جعفری نے کہا کہ امریکہ جان لے کہ ٹرمپ کے احمقانہ اقدامات کا فائدہ اٹھا کر ایران خطے میں اپنی دفاعی اور میزائل صلاحیت کو مزید فروغ دے گا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲