اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی نائب ناظم اعلیٰ نے پی پی69 میں منعقدہ "شہادت امام حسین علیہ السلام کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا دو فلسفوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے طاقت ہی حق ہے اس کا ساتھ دو جبکہ دوسرا طبقہ کہتا ہے حق ہی طاقت ہے اس کا ساتھ دو۔ طاقت کو حق ماننا یزیدیت اور حق کو طاقت ماننا حسینیت ہے۔
تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی نائب ناظم اعلیٰ انجینئرمحمدرفیق نجم نے پی پی69 میں منعقدہ ’’شہادت امام حسین کانفرنسؓ ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا دو فلسفوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے طاقت ہی حق ہے اس کا ساتھ دو جبکہ دوسرا طبقہ کہتا ہے حق ہی طاقت ہے اس کا ساتھ دو۔ طاقت کو حق ماننا یزیدیت اور حق کو طاقت ماننا حسینیت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معرکہ کربلا انسانیت اور بربریت، امانت اور خیانت، عدل اور ظلم، صبر اور جبر، وفاء اور جفا، مساوات ایمانی اور مطلق العنانی کے درمیان جنگ تھی۔ یزید ظلم و جبر، آمریت، سفاکیت، خیانت، مطلق العنانیت اور کرپشن کا بانی تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس نظام ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما رانا نعیم دستگیر، میاں محمد امجدقادری، خالدرفیق ایڈووکیٹ، محمدارشدمغل، ظفراقبال، شاہدانصاری، ڈاکٹرمحمدحسین، جعفرحسین گجر، رانامحمودالحسن، ڈاکٹرشبیرحسین، غلام فرید، فیاض احمد، دلبرحسین اعوان، اجمل اسلم بھی موجودتھے۔
عوامی تحریک کے ضلعی جنرل سیکرٹری میاں کاشف محمودنے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد کائنات انسانی کو دو کردار مل گئے، یزیدیت جو بد بختی، ظلم، استحصال، جبر، تفرقہ پروری، قتل و غارت گری اور خون آشامی کا استعارہ بن گئی اور حسینیت صبر، شکر، عدل، امن، وفا اور تحفظ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی علامت ٹھہری۔ نوجوان اور خواتین شہدائے کربلا کی مقدس زندگیوں کے مطالعہ کو اپنے معمولات کا حصہ بنائیں اور ان کی فکر پر چلیں۔ اسلام کے رہنما اصولوں پر چل کر معاشرتی اور معاشی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق طاقت ہے یہی حسینیت ہے اور طاقت حق ہے اس فلسفے کو یزیدیت کہتے ہیں۔ کون حق پر ہے اور کون ظلم و جبر پر مبنی نظام طاقت پر ہے یہ پرکھنے کیلئے تاریخ کربلا کو سامنے رکھ لیا جائے تو کھرے اور کھوٹے کا فرق سامنے آجائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں نے ظالم، کرپٹ اور قاتل نظام کے خلاف جانی و مالی قربانیاں دیں یہ رائیگاں نہیں جائینگی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں سے قصاص لینے کیلئے دوسرا راؤنڈ ہو گا، مرتے دم تک قاتلوں سے سمجھوتہ نہیں ہو گا، قصاص لے کر رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲