اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خبررساں ادارے "الشرق الاوسط کا کہنا ہے کہ سعودی حکام عراق کو فرقے کی بنیاد پر تقسیم کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔
الشرق الاوسط کے مطابق، سعودی حکام عراق کو فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
شرق الاوسط نے خبر دی ہے کہ عراق کے سنی سیاسی رہنماؤں کا ارادہ ہے کہ وہ حیدر العبادی سے مل کر سنی علاقے کی تشکیل کا منصوبہ پیش کریں گے۔
خبررساں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ آل سعود عراق کو فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سعودی اخبار نے آل سعود کی اس کوشش کو فاش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہفتے کو اہل سنت رہنماؤں نے اجلاس منعقد کیا اور ان رہنماؤں کا ارادہ ہے کہ وہ حیدر العبادی سے مل کر سنی علاقے کی تشکیل کا منصوبہ پیش کریں گے۔
کردستان کے ریفرنڈم کے بعد اب سنی رہنما وزیراعظم حیدر العبادی سے فرقے کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کی بات کریں گے۔
الشرق الاوسط کے مطابق سنی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مخالفت کی تو وہ کُردوں سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب عراق کو کسی بھی صورت میں ٹکڑے کرنا چاہتا ہے لیکن ایران، ترکی کے علاوہ دنیا کے اکثر ممالک عراق کی سالمیت پر تاکید کررہے ہیں۔
عراقی شیعہ سنی عوام بھی ملک کو تقسیم کرنے کے بالکل مخالف ہیں لیکن اسرائیل اور سعودی حکام اس ملک کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی ناکام پالیسی پر گامزن ہیں، جس کی واضح مثال حال ہیں میں عراق کے صوبہ کردستان میں آزادی کی ریفرنڈم ہے جسے اسرائیل اور آل سعود کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
خیال رہے کہ کردستان ریفرنڈم کی اسلامی جمہوری ایران، ترکی، پاکستان اور امریکہ سمیت مختلف ممالک نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیرقانونی اور غیرقابل قبول قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲