اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے جوہری معاہدے کے حوالے سے جارحانہ رویہ اپنانے پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی توسیع پسندانہ خواہشات کا مقابلہ کرے.
یہ بات 'علی اکبر صالحی' نے پیر کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے کی 61ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری تمام جوہری سرگرمیوں اس عالمی معاہدے کے مطابق ہے اور ایجنسی کی متعدد تصدیق کی بناپر اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے تمام وعدوں پر عملدرآمد کرتا ہے.
صالحی نے کہا کہ تمام جوہری مقامات کی تک رسائی کے ساتھ ایرانی ایٹمی سرگرمیاں انجام ہو رہی ہے اور اس معاہدے کے ایک رکن اس کے مکمل عمل کرنے میں رکاوٹوں قائم کرکے مگر تمام فریقون کو اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرنا چاہیئے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے خلاف کوئی اقدام کے ساتھ اس بڑی تاریخی کامیابی خطرے کا شکار ہوجائے گی جو نہ صرف رکن ممالک بلکہ تمام بین الاقوامی برادری کے مفاد نہیں ہے.
انہوں نے امریکہ کی حالیہ پالیسی اقدامات اور ایران کی دیانتداری کے حوالے سے ان کے مطالبات کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ عالمی توانائی ایٹمی ایجنسی امریکہ کی بے بنیاد درخواستوں کو مسترد اور اپنے نگران کردار کو جاری رکھے گا.
تفصیلات کے مطابق 'علی اکبر صالحی' کی قیادت میں ایرانی جوہری وفد اتوار کے روز بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 61ویں جنرل کانفرنس میں شرکت کے لئے ویانا پہنچ گئے.
ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ منعقد ہونے والی نشست میں تقریر کے علاوہ عالمی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ 'یوکیا امانو'، اس تنظیم کے بعض اعلی حکام اور مختلف اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات اور باہمی دلچسبی امور پر تبادلہ خیال کریں گے.
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 61ویں جنرل کانفرنس آج بروز پیر آسٹریائی دارالحکومت ویانا میں انعقاد ہوگیا جس کا مقصد آئی اے ای اے کے بجٹ اور جوہری تعاون کے موجودہ مواقع کا جائزہ لینا ہے.
تفصیلات کے مطابق، دنیا کے 168 ممالک کے نمائندے، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی ترجیجات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اس کانفرنس میں شرکت کریں گے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲