اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست کے وزیر تعلیم "نفتالی بنت" نے دعوی کیا ہے کہ "جدید صہیونیت" نے یہودیوں کے لئے پرامن اڈا فراہم کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اس مسئلے کے لئے ایک خطرہ ہے۔
بنت نے ہرٹزیلیا سلامتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور حزب اللہ صہیونی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ایران کی ایٹمی ملک میں تبدیلی اسرائیل کے وجود کے لئے بنیادی خطرہ ہے۔
یروشلم پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق بنت کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کو شدید عدم تناسب کی وجہ سے تقویت ملی ہے۔
یہودی ریاست کے وزیر نے کہا: ایران پر اسرائیل کا حملہ، اسرائیل پر ایران کے حملے جتنا تباہ نہیں ہوسکتا اور اسرائیل کا حملہ ایران کو اتنا نقصان نہيں پہنچا سکتا جبکہ ایران کا حملہ اسرائیل کو تباہ کرسکتا ہے۔
صہیونی وزیر نے کہا: اگر موقع ملے تو میں فوری طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو منسوخ کروں گا اور ان ممالک پر معاشی دباؤ بڑھا دوں گا جو ایران کے ساتھ لین دین کرتے ہیں۔
بنت کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ دشمنی "سرد جنگ" نہیں ہے۔
اس صہیونی وزیر نے دعوی کیا کہ جدید صہیونیت نے یہودیوں کے لئے پرامن اڈہ فراہم کیا ہے لیکن ایران اس اڈے کے لئے خطرہ شمار ہوتا ہے۔
بنت نے غزہ کی پٹی سے دوبارہ پسپائی اور اس علاقے پر حماس کے کنٹرول پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یہی رویہ جنوبی لبنان میں بھی اپنایا جس کی وجہ سے حزب اللہ کو موقع ملا کہ وہ ان علاقوں میں اپنے آپ کو مستحکم کردے۔
اسرائیلی وزیر نے کہا: میں اس مسئلے پر زو دینا چاہتا ہوں کہ حزب اللہ ہی لبنان ہے اور حزب اللہ کی طرف سے میزائل حملہ اسرائیل کے نزدیک لبنان کی طرف سے اعلان جنگ تصور ہوگا۔
۔۔۔۔۔
110
12 ستمبر 2017 - 11:55
News ID: 853782
صہیونی ریاست کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ایران صہیونی ریاست کے لئے اصل خطرہ ہے اور اگر اسرائیل ایران پر حملہ کرے تو وہ اسرائیل پر ایران کے حملے جتنا تباہ کن نہيں ہوسکتا / ایران کے حملے میں اسرائیل ویران ہوجائے گا۔