اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايراني صدر مملكت نے سائنس اور ٹيكنالوجي كي ترقي سے ڈرنے كے بجائے مسلم معاشرے كے اتفاق كي طاقت ميں اضافہ كرنے پر زور ديتے ہوئے كہا ہے كہ سائنس اور ٹيكنالوجي كي ترقي كے لئے سياسي، سماجي، ثقافتي اور اقتصادي صورتحال كو بہتر بنانا ناگزير ہے.
ان خيالات كا اظہار ڈاكٹر 'حسن روحاني' نے اتوار كے روز قازقستان كے دارالحكومت آستانہ ميں اسلامي تعاون تنظيم (OIC) كي سائنسي اور ٹيكنالوجي سربراہي كانفرنس ميں خطاب كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ہمارے لئے سائنس اور جديد ٹيكنالوجي كي ترقي كي سب سے اہم ضروريات سياسي، سماجي، ثقافتي اور اقتصادي پر امن صورتحال كي فراہمي ہے اسي لئے اس تك رسائي كے لئے بہت سي كوششيں كريں.
صدر روحاني نے كہا كہ سائنس اور ٹيكنالوجي سے متعلقہ شعبوں ميں باہمي تعاون روزگار اور پيداوار كے مواقعوں كي فراہمي، انتہاپسندي اور دہشتگردي كي جڑوں كي تباہي كا باعث بن سكتي ہے.
انہوں نے 'سائنس، ٹيكنالوجي اور جديد اسلامي دنيا' كے عنوان سے منعقدہ اجلاس ميں كہا كہ آج اسلامي اقوام 'فعال، حقيقي اور شراكت داري رويہ' اور 'غيرفعال نقطہ نظر' كے درميان ايك تاريخي اور اہم انتخاب كا سامنا ہے.
ايراني صدر نے اسلام كے دشمنوں كے تفرقے اور عالمي طاقتوں كي سازشوں سے دوري پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ہم سب كو تمام ممالك كے درميان سائںس اور نئے ٹيكنالوجي كے حوالے سے باہمي تعاون كو فروغ اور اسلامي دنيا ميں سياسي، اقتصادي اور ثقافتي مشتركہ موقف كي توسيع ديني چاہيئے.
انہوں نے مزيد كہا كہ بد قسمتي سے آج اسلامي دنيا متعدد بحرانوں كا شكار ہے اور مظلوم فلسطيني قوم كے خلاف ناجائز صہيوني رياست كے جرائم، ميانمار ميں روہنگيا كے مسلمانوں كے خلاف انتہاپسندوں كے وحشيانہ اقدامات، عراق اور شام ميں انتہا پسند گروہوں كي انساني تباہي اور يمني عوام كے خلاف مسلسل فوجي كارروائي كي وجہ سے اسلامي دنيا ميں باہمي اتحاد كي مزيد مضبوطي ناگزير ہے.
صدر مملكت نے كہا كہ ترقي يافتہ دنيا كے داخلے كے لئے اسلامي دنيا كے ركن ممالك كے درميان باہمي تعاون اور يكجہتي جہالت، غربت، جنگ اور تشدد كے بغير ايك نئي دنيا قائم كرنے كي مشتركہ كوشش ہے.
انہوں نے بتايا كہ اسلامي دنيا كي ترقي، صلاحيت اور استحكام تمام دنيا كو فروغ كا باعث بن جائے گا كيونكہ كمزوري، پسماندگي اور ذلت ميں اسلامي دنيا پايئدار امن، كثيرالجہتي ترقي اور موثر يكجہتي كي تك رسائي حاصل نہيں كرسكتا ہے.
تفصيلات كے مطابق، آستانہ ميں منعقدہ اجلاس ميں اسلامي ممالك كے صدور، ثقافتي اور سانئسي حكام اور بين الاقوامي تنظيموں كے اعلي حكام نے شركت كر رہے ہيں اور اس اجلاس كے اختتام پر ايك مشتركہ بيانيے كو پيش كيا جائے گا.
ياد رہے كہ قازقستان كے صدر 'نظر بايف' كي تقرير كے ساتھ اتوار كے روز قازقستان كے دارالحكومت آستانہ ميں اسلامي تعاون تنظيم (OIC) كے سائنس اور ٹيكنالوجي كے حوالے سے پہلے سربراہي اجلاس كا آغاز ہوگيا ہے جس ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر مملكت ڈاكٹر 'حسن روحاني' اور اس تنظيم كے ركن ممالك كے اعلي حكام شركت كر رہے ہيں.
سائنس اور ٹيكنالوجي كے شعبوں كے درميان نئے تعلقات، اس حوالے سے اسلامي ممالك كي پوزيشن اور باہمي تعاون كي ترقي كے لئے سب سے بہترين طريقوں كا جائزہ لينا اس منقعدہ اجلاس كا مقصد ہے.
واضح رہے كہ منعقدہ اجلاس ميں ميانمار كي حكومت كي جانب سے روہنگيا كے مظلوم مسلمانوں كے خلاف وحشيانہ اقدامات اور ان كے قتل عام كي روك تھام پر تبادلہ خيال كيا جائے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲