4 ستمبر 2017 - 14:08
 عراق ميں شيعہ،سني اتحاد سے موصل اور تلعفر ميں فتح حاصل ہوئي: محسن رضايي

ايران کي ايکسپيڈينسي کونسل کے سيکرٹري نے کہا ہے کہ ايراني مسلح افواج بشمول الحشد الشعبي کے درميان تعاون بالخصوص اور شيعہ،سني اتحاد کے ذريعے موصل اور تلعفر کے شہروں کو داعش کے دہشتگردوں سے آزاد کرانے ميں فتح حاصل ہوئي ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايران کي ايکسپيڈينسي کونسل کے سيکرٹري نے کہا ہے کہ ايراني مسلح افواج بشمول الحشد الشعبي کے درميان تعاون بالخصوص اور شيعہ،سني اتحاد کے ذريعے موصل اور تلعفر کے شہروں کو داعش کے دہشتگردوں سے آزاد کرانے ميں فتح حاصل ہوئي ہے.

'محسن رضايي' نے عراقي دارالحکومت بغداد ميں پريس کانفرنس کرتے ہوئے مزيد کہا کہ شامي اور عراقي فورسز کي اپني قانوني سرحدوں پہنچنا گزشتہ 4 سال کے دوران ايک بڑي کاميابي جو ان ممالک ميں جاري سلامتي کي علامت ہے.

رضايي نے کہا کہ عراق، شام، لبنان اور ديگر ممالک ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي موجودگي ان ممالک کي درخواست کي مبني پر ہے اور ہمارے مقصد سلامتي کو برقرار رکھنا ہے.

انہوں نے خطے ميں امريکي پاليسي کا حوالہ ديتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ امريکہ عراق اور شام ميں سلامتي کو برقرار رکھنا نہيں چاہتا اور اس ممالک ميں بدامني کے لئے بھرپور کوششيں کرتا ہے.

ايراني عہديدار نے شام کے مشرقي ديرالزور علاقے ميں داعش دہشتگردوں کي منتقلي کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ايسے اقدام دہشتگردوں کے لئے ضررساں ہوجائے گا کيونکہ اس علاقے ميں شامي فورسز کا آپريشنز جاري ہے اور مستقبل مہينوں ميں دہشتگردوں مکمل طور پر ناکام ہوں گے.

انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور عرب ممالک، شيعي اور سني قوموں کے درميان تنازعات پيدا کرنے کے حوالے سے امريکہ اور ناجائز صہيوني رياست کي پاليسياں شکست کے ساتھ سامنا پڑا ہے اور ہم نے ان کي تمام سازشوں کو تباہ کي.

ايراني تشخيص مصلحت نظام کے سيکرٹري نے کہا کہ ہم اسلام کا پہلا دشمن ناجائز صہيوني رياست کو شيعي اور سني اور عرب ممالک کے درميان تفرقہ ڈالنے کي اجازت نہيں دے رہے ہيں اور ايران، عراق، شام اور لبنان ميں مزاحمتي فرنٹ کي تشيکل بہت ہي اہم اور ہميں اميد ہے قريب مستقبل ميں سعودي عرب اسرائيل سے مقابلے کرنے کے لئے اس فرنٹ ميں شامل ہوئے.

انہوں نے کہا کہ ابھي صورتحال ميں اسلامي جمہوريہ ايران، عراق، شام اور لبنان دوستانہ تعلقات کے ذريعہ دہشتگردوں سے مقابلہ کرکے اور ان چار ممالک خطے ميں سلامتي اور سيکورٹي قائم کرسکتے ہيں.

انہوں نے عرب ممالک سے اسلامي ممالک کي ايک يونين کي تشکيل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حاليہ 14 سال کے دوران عراق ميں امريکہ کي پاليسياں ناکام ہوتي ہے اور آج امريکہ بہت ہي کمزور ہوا ہے.

انہوں نے عراق ميں دہشتگردوں کے خلاف جنگ ميں مسلح افواج اور عوامي رضاکارانہ فورس (الحشد الشبعي) کي کاميابيوں پر مبارکباد پيش کرتے ہوئے کہا کہ آج عراقي قوم اور حکومت خود مختار ہيں اور اس ملک کے مستقبل کے فيصلہ کے لئے کوئي ملک کي مداخلت کي ضرورت نہيں ہے.

رضايي نے مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران عراق کي تعمير نو کے حوالے سے اس ملک کي حکومت اور قوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہماري پاليسي تمام ممالک کي سالميت کي حفاظت اور بين الاقوامي سرحدوں کي عدم تبديلي ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم يقين ہيں کہ اگر ناجائز صہيوني رياست کے خاتمے سے نہ صرف فلسطين کي آزادي ممکن ہوگي بلکہ ديگر اسلامي علاقوں ميں بھي جنگ اور اختلافات کا سلسلہ بند ہوگا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲