1 ستمبر 2017 - 11:25
امریکا اور روس کے مابین سفارتی کشیدگی برقرار

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان سفارتی جنگ جاری رہنے کے دوران امریکا نے سن فرانسسکو میں روسی قونصل خانہ جبکہ واشنگٹن و نیویارک میں روس کے دو دیگر نمائندہ دفاتر کو بند کردیا ہے۔ امریکا کے اس فیصلے کے بعد روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کا یہ اقدام افسوسناک ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: روسی وزارت خارجہ نے روس اور امریکا کے وزرائے خارجہ کی ٹیلی فونی گفتگو کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ روسی وزیرخارجہ لاوروف نے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی پر جس کا آغاز روس نے نہیں کیا ہے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ماسکو امریکا کے ان اقدامات اور فیصلوں کا بغور جائزہ لے رہا ہے ۔

امریکا نے جمعرات کو روس سے کہا تھا کہ وہ سن فرانسسکو میں اپنے قونصل خانے اور نیویارک اور واشنگٹن میں اپنے دو دیگر نمائندہ دفاتر کو بند کردے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نے یہ اقدام روسی اقدام کے جواب میں کیا ہے جس کے تحت ماسکو نے روس میں امریکی سفارتکاروں کی تعداد کم کردی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ اس کا یہ اقدام جوابی کارروائی ہے اور روس کے مذکورہ سفارتی دفاتر سنیچر تک بند ہوجانے چاہئیں۔
اس سے پہلے روسی حکومت نے امریکا کے اس وقت کے صدرباراک اوباما کے اقدام کے جواب میں کچھ مہینے کی تاخیر سے روس میں تعینات امریکی سفارتکاروں کی ایک بڑی تعداد کو کم کردیا تھا اور روس میں امریکا کے متعدد دفاتر بند کردئے تھے۔
پھر اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے بھی کارروائی کی اور جیسا کہ وائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ صدر ٹرمپ نے سن فرانسسکو میں روسی قونصل خانے اور نیویارک و واشنگٹن میں اس کے ایک ایک نمائندہ دفاتر کو بند کردینے کا حکم دیاہے۔
روسی دوما میں بین الاقوامی امور کے کمیشن کے نائب سربراہ الیکسی چپا نے کہا ہے کہ روس بھی امریکا کے اس اقدام کا جواب دے گا۔
امریکا اور روس کے درمیان یہ سفارتی تنازعہ ان دونوں ایٹمی طاقتوں کا ایک بڑا تنازعہ ہے۔
سابق سویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد عالمی سطح پر ماسکو کا جو اثر و رسوخ کم ہوگیا تھا روسی حکام اب اس کو بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور اپنے آپ کو ایک بار پھر سپر طاقت کے طور منوانے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا عالمی سطح پر اپنی من مانی پالیسی چلانے اور سابقہ امریکی حکومت کی تشریک مسا‏عی والی پالیسی کو بالائے طاق رکھ دینے میں لگا ہوا۔
ٹرمپ نے فرسٹ امریکا کا نعرہ دے کر یہ کوشش کی ہے کہ سابق سویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد امریکا کو انیس نوے کے عشرے کے پہلے نصف میں واحد سپر پاور بننے کا جو موقع ملا تھا اسی مقام پر واشنگٹن کو دوبارہ لے جائیں۔
چنانچہ اس وقت امریکا اور روس دونوں ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات سرد جنگ کے آخری عشرے کے دور سے بھی زیادہ کشیدہ ہیں۔
امریکا نے روس پر انتہائی شدید پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ روس نے بھی وسطی ایشیا ، قفقاز ، یوکرین اور شام میں امریکا کے سبھی منصوبوں کو تقریبا ناکام بنادیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169