25 اگست 2017 - 18:08
کشمیر؛ مسلم اکثریتی تشخص کے خاتمے کی منصوبہ بندیوں کے خلاف احتجاج ناگزیر

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست جموں و کشمیر کے مسلم اکژیتی تشحص کے خاتمے کی بھا رتی منصوبہ بندیوں کو ریاست کے حریت پسند عوام کے خلاف کھلی جنگ سے تعبیر کرتے ہوئے ان منصوبہ بندیوں کے خلاف عوامی احتجاج کو نا گزیر قرار دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئیر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست جموں و کشمیر کے مسلم اکژیتی تشحص کے خاتمے کی بھا رتی منصوبہ بندیوں کو ریاست کے حریت پسند عوام کے خلاف کھلی جنگ سے تعبیر کرتے ہوئے ان منصوبہ بندیوں کے خلاف عوامی احتجاج کو نا گزیر قرار دیا ۔مر کزی امام باڑہ بڈگام نے بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ آئینہ ہند کے دفعہ 35.Aاور 370کشمیری عوام کے لئے کوئی انمول تحفہ نہیں بلکہ یہ عارضی دفعات آئینہ ہند میں ریاست کے مسلم اکثریتی تشخص کی حفاظت کی علامتیں ہیں۔ مذکورہ دفعات کی تنازعہ کشمیر کے مستقل حل تک حفاظت حریت پسند کشمیری عوام کی ایک تحریکی زمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ دفعات کی حفاظت کیلئے سنجیدہ جدوجہد ہر کشمیری سیاسی قوت کیلئے ایک کڑی آزمائش ہے۔ آغا حسن نے مزاحمتی خیمے کے خلاف دلی کے سیاسی انتقام گیری کے حربوں کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے پابند سلاسل مزاحمتی رہنماوں اور اراکین کے ساتھ جیلوں میں غیر انسانی سلوک پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ محبوس رہنما شبیر احمد شاہ کے ساتھ جیل میں آئے روز بدسلوکی کے واقعات کو مزاحمتی قیادت کے عزم و استقلال کو توڑنے کی بزدلانہ کوششوں سے تعبیر کرتے ہئے آغا حسن نے کہا کہ ایک سیاسی رہنما کے ساتھ اس طرح کے طرز عمل کی مہذب دنیا میں کوئی گجائش نہیں۔ تارتھ پورہ ہندواڑہ میں جوان سال طالب علم شاہداحمد کی فرضی انکانٹر میں شہادت کے سانحہ کو ریاستی دہشتگردی کا ایک اور دلدوز واقعہ قرار دیتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ بھارت کسی بھی قسم کے حالات میں کشمیریوں کی نسل کشی کی پالیسی ترک کرنے کیلئے تیار نہیں۔آغا حسن نے شہید طالب علم کے لواحقین سے اظہار تعزیت و تسلیت کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کا لہو رائیگان نہیں ہوگا۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے رکھ آرتھ بمنہ میںLAWDA کی جابرانہ اور جارحانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آباءو اجدا کے مسکن سے بزور طاقت بے دخل کئے گئے متاثرین ڈل کو بازآبادکاری کے نام نہاد منصوبے کے تحت رکھ آرتھ کی دلدلی زمین پر بود باش کیلئے مجبور کای گیا۔ بازآبادکاری اور بنیادی سہولیات کی یقین دہانیوں کے برعکس محکمہ LADWA ان متاثرین کے ساتھ روز اول سے ہی دھوکہ دہی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بنیادی سہولیات تو درکنار یہ لوگ قبرستان، مسجد ، امام باڑہ جنازہ گاہ وغیرہ جیسی ناگزیر دینی ضروریات سے بھی محروم ہیں ۔ ان متاثرین کی مذکورہ ناگزیر ضروریات کیلئے حکومت کے پاس زمین میسر نہیں لیکن اسی کالونی میں ایک اور با رسوخ فرد منظور احمد وانگنوکو ایک بڑا رقبہ اراضی بطور تحفہ دیا گیااور اسی شخص کی ایما پر رکھ آرتھ میں آباد متاثرین ڈل کو یہاں سی بھی فرار اختیار کروانی کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔ آغا حسن نے رکھ آرتھ میں مقیم متاثرین ڈل کو یقین دلایا کہ ظلم و تعصب اور امتیازی سلوک کے خلاف اُن کی جدوجہد میں جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان ہر سطح پر شامل حال رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲