اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاسداران انقلاب کی بری فورسز کے کمانڈر نے تکفیری دہشتگردوں کے جرائم پر ایرانی مسلح افواج کے ردعمل کی نوعیت کے حوالہ سے کہا ہے کہ یقینا داعش اور ان کے حامیوں کا دو ٹوک جواب دیا جائے گا.
یہ بات بریگیڈیر جنرل 'محمد پاکپور' نے پیر کے روز شام میں شہید ہونے والے ایران کے عسکری مشیر 'محسن حججی' اور مقدس مزارات کے شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تعزیتی ریفرنس کے موقع پر ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہید حججی کی شہادت کے بعد ہمارے جوانوں کے درمیان بہادری کی لہر محسوس ہو رہی ہے اور آج جہاد کے میدان صرف ملک کی سرحدوں کو شامل نہیں بلکہ ہماری سرحدوں سے باہر بھی میدان جہاد وسیع ہے.
جنرل پاکپور نے آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے بعد دشمنوں کی متعدد سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حالیہ سالوں کے دوران ایران کے مشرقی اور مغربی جنوب، مغربی شمال اور مغربی جنوب میں سامراجی آل سعود کی جانب سے حمایت ہونے والے دہشتگردوں کے جرائم کا شکار ہیں مگر ان مسائل کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ایک قابل قبول پر امن ملک ہے.
اعلی انقلابی فوجی کمانڈر نے کہا کہ تکفیری دہشتگردوں نے سعودی عرب اور سامراجی حکومت کی حمایت کے ذریعہ شام اور عراق پر حملہ کیا اور اگر ان سے مقابلہ نہ ہوتا تو کربلا، نجف اور تمام شیعی عوام قتل عام ہوگئے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شام اور عراق کی حکومتوں کی درخواستوں کی بناپر دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں شرکت کی اور دوسرے ممالک سمیت امریکیوں کی طرح اجازت کے بغیر ان ممالک میں داخل نہیں ہوئے.
سپاہ پاسدران کی زمینی افواج کے کمانڈر نے کہا کہ حلب کی آزادی ایک اہم کامیابی تھی کیونکہ دہشتگردوں کی کمر پر کاری ضرب لگائی گئی۔
یاد رہے کہ 25 سالہ ایرانی مجاہد اور عسکری مشیر محسن حججی اصفہان صوبے کے علاقے نجف آباد سے تعلق رکھتے تھے.
داعش کے دہشتگردوں نے شام اور عراق کی سرحد پر ان کو پہلے اسیر کیا اس کے بعد محسن حججی کو بے دردی سے شہید کیا گیا.
اعلی ایرانی رہنما بالخصوص گارڈین کونسل کے چیئرمین آیت اللہ احمد جنتی، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی اور وزیر ثقافت و اسلامی گائیڈنس سید رضا صالحی امیری نے بھی اپنے خصوصی پیغامات میں محسن حججی کی شہادت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲