22 جولائی 2017 - 12:51
عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں دوہزار سے زیادہ عام شہریوں کا قتل عام

ایک امریکی فوجی نے عراقی عوام کا نہایت بے رحمی سے قتل عام کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی ڈیلارڈ جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں پانچ سال کی تعیناتی کے دوران اس نے دوہزار سے زیادہ عام شہریوں کو قتل کیا ہے۔

اڑتالیس سالہ امریکی فوجی جانسن نے کہ جو ایک سفاک امریکی فوجی شمار ہوتا ہے اور دوہزار پانچ سے دوہزار دس تک عراق میں تعینات تھا دوہزار سات سو سینتالیس عراقیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
سارجنٹ ڈیلارڈ جانسن نے عراق میں امریکی فوج کے ظالمانہ اقدامات کا اعترافات کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں اپنی موجودگی کے دوران اس نے ہر روز ایک یا دو عراقیوں کو قتل کیا ہے۔
اس امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے پہلے جنوبی عراق کے شہر السماوہ کے قریب بکتر بندگاڑی کو ایک مسافر بس پر چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں تیرہ عراقی جاں بحق ہوگئے تھے۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکی فوج نےسارجنٹ ڈیلارڈ جانسن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جنگی ہیرو کے عنوان سے سینتیس میڈل دیئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169