1 جولائی 2017 - 12:43

پاراچنار میں سات دن گذرنے کے باوجود حکومت کی بے حسی اور سوتیلی ماں والے سلوک کو ظاہر کرتی ہے، عسکری قیادت کا پاراچنار کا دورا نہ کرنا تماشاہی بنے رہنے کی مصداق ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاراچنار میں سات دن گذرنے کے باوجود حکومت کی بے حسی اور سوتیلی ماں والے سلوک کو ظاہر کرتی ہے، عسکری قیادت کا پاراچنار کا دورا نہ کرنا تماشاہی بنے رہنے کی مصداق ہے، تازہ ہونے والے پے در پے سانحات نے اس بار عید کی خوشیاں ماند کردیں، ان میں پاراچنار، کوئٹہ، خودکش دھماکے اور سانحہ احمد پور شرقیہ انہی سانحات کی بنا پر بلعموم پوری قوم اور بالخصوص ملت تشیع عید کے دن بھی یوم سیاہ اور سوگ مناتی رہی،اس دوران یہ بات بحیثیت پاکستانی باعث تشویش بن کے سامنے آئی کہ ہمارے حکمرانوں نے سانحہ پاراچنار کے شہداء اور زخمیوں کو یکسر فراموش کردیا۔ ریاستی رویہ ہمارے لیے ناقبل فہم اور باعث تشویش ہے، ان خیالات کا اظہارحیدرآباد میں صداء مظلومین فورکی جانب سے کیئے گئے پریس کانفرنس میں علامہ زولفقار علی کاظمی، اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے رہنما شکیل حسینی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کے رہنما قائم حیدر، شعیہ علما کائونسل  کے رہنما مصطفی، امامیہ آرگنائیزیشن پاکستان کے رہنما زیشان حیدر و دیگر رہنماوں نےکیا، ملت تشیع نے ہمیشہ پاکستان کے بہترین مفاد کی خاطر ہزاروں لاشے اٹھانے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جبکہ طالبان، اور داعیش جیسی کالعدم دی ہوئی دہشتگرد تنظیمیں امریکہ و اسرائیل کے ایجنڈے پر مسلسل عمل پیرا ہیں اور ان دہشت گردوں نے نرم گوشہ رکھنے والے بعض حکومتی اور ریاسیتی عناصر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، آج ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پاراچنار میں حالیہ دہشتگردع اور فورسز میں چھپی ہوئی کالی بھڑوں کہ جنہوں نے احتجاج کرنے والے نہتے مومنین پر فائرنگ کی ان خلاف آرمی چیف اور ریاست نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں، لہذا ہم بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتفردی میں ملوث عناصر، انکے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرتے ہوئے قرار واقعی سزا دے کر پاکستان کی ملت تشیع کو لاحق خطرات کا ازالہ کیا جائے اور پاکستان کے تمام شہداء زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، پاراچنار میں احتجاجن دھرنے میں بیٹھے ہوئے شہداء و زخمیوں کے لواحقین سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات تسلیم کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲