اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر ثابت علی ساجدی نے کہا کہ مختصر عرضے کے دوران پاراچنارمیں پے در پے دہشت گردی کے چار بڑے سانحات کا رونما ہونا حکمرانوں اور سکیورٹی اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے، اس سانحات میں سینکڑوں شیعہ سنی پاکستانی شہری تکفیری دہشت گردوں کی وحشت کا نشانہ بنے ہیں، افسوس کا مقام ہے ہمارے سکیورٹی ادارے پاراچنار کا چھوٹا سا علاقہ دہشت گردی سے محفوظ بنانے میں یکسر ناکام نظر آتے ہیں ، ستم بالائے ستم کے ایک جانب داعش اور دیگر ہم خیال تکفیری دہشت گرد گروہ شیعہ نسل کشی میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ہمارے سیکیورٹی اداروں میں موجود انتہاپسندسوچ اور داعیش کے ہم خیال دہشتگردوں کا رہا سہا کام نہتے شہروں پر گولیاں برسا کرپورا کردیتے ہیں ، افسو س کامقام ہے کہ ہمارے صاحبان اختیار واقتدار آج تک محب وطن اور ملک دشمن میں تمیز نا سیکھ سکے، ہزاروں جنازے اٹھانے کے باوجود، ہزاروں زخمی دینے کے باوجود کبھی سبز ہلالی پرچم گرنےنا دیا ، پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں پاراچنارہی وہ واحد علاقہ ہے جہاں قومی پرچم پوری آب وتاب کے ساتھ لہراتا ہے ، جہاں کبھی پاک افواج پر حملے نہیں ہوتے جہاںمسلح دہشتگرد جتھے نہیں بنائے گے، اس کے باوجود وہاں کے عوام کے ساتھ حکومتی اداروں کا سوتیلی ماں جیسا سلوک قابل مذمت ہے ، تازہ اس سانحے میں جہاں درجنوں شہری سر عام بازارمیں لقمہ اجل بنے وہیں ایف سی کے متعصب اہلکاروں نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پرامن مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے محب وطن پاراچناری شیعہ شہریوں کو شہید کردیا ، انہوں نےمزید کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے ایسا سفاکانہ طرز عمل ملت جعفریہ کے جذبات کو بری طرح مجروح کررہا ہے ، اگر مقتدر اداروں میں موجود سرکردہ شخصیات نے ایف سی کی جانب سے تیسری بار نہتے شہریوں پربلاجواز گولیاں برسانے کا نوٹیس نہ لیا تو پاراچنار کے مظلوم عوام اپناد فا ع خود کرنا جانتے ہیں، ثابت علی ساجدی نے مطالبہ کیا کہ ملوث زمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جس سے ملت میں موجود بی چینی ختم ہوسکتی ہے، دوسری صورت میں احتجاجی تحریک کا آغاز کی جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲