اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عید الفطر کے متبرک موقعہ پر دنیائے اسلام بالخصوص مظلوم ملت اسلامیہ جموں کشمیر کی خدمت میں پُرخلوص مبارک باد پیش کرتے ہوئے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہوںکہ یہ عید جملہ مظلومین عالم کیلئے مسلط قوتوں کے جبروتسلط سے نجات کی نوید بن کر آئے۔ اس وقت عالم اسلام جس کربناک صورتحال سے دوچار ہے، مختلف خطوں میں مسلمانوں کاکشت وخون جاری ہے۔ امت اسلامیہ کے باہمی اتحاد و اخوت کو مسلکی اور جغرافیائی بنیادوں پر پارہ پارہ کرنے کی استکباری سازش اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ آئے روز دہشتگردانہ حملوں میں سینکڑوں نہتے مسلمان ابدی نیند سلائے جارہے ہیں۔اور کئی ممالک میں مسلمانوں کو اپنے وطن اور گھروں سے بے دخل کرنے کیلئے ظلم و جبر کی انتہا کی جارہی ہے۔ ایسی جگر سوز صورتحال میں عید کے موقعہ پر ظاہری دھوم دھام اور جشن و انبساط کی کوئی گنجائش نہیں۔ مسلط قوت کی جبرو بربریت اور انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے سرزمین کشمیر سالہا سال سے ماتم کدہ بنی ہوئی ہے۔ سال گزشتہ کی عید الفطر کے بعد کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کا ایک سلسلہ چل پڑا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔ سینکڑوں گھرانوں کے چشم وچراغ بجھ گئے، وحشی درندوں کیلئے مخصوص پیلٹ بندوقوں کے چھروں سے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان آنکھوں کی بینائی سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئے۔ دسیوں ہزار لوگ مضروب کئے گئے، ظلم و بربریت کے اُن سینکڑوں سانحات کے دلسوزمناظر ابھی تک اہلیانِ کشمیر کے آنکھوں کو اشکبار اور دلوں کو لرزیدہ کئے ہوئے ہیں۔ اپنے ان بچھڑے عزیز و اقارب کو یاد کرتے ہوئے اُن کے لواحقین ابھی تک محو فغان ہیں۔ عید الفطر کے موقعہ پر آیئے اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنے لاکھوں شہدا کی قربانیوں کی حفاظت اور اُن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہر سطح پر اپنی ذمہ داریوں کوادا کریں گے۔ میری اہلیان کشمیر سے مخلصانہ استدعا ہے کہ وہ عید نہایت سادگی سے منائیں، مساکین و مستحقین اور دیگر مفلوک الحال افراد کی خبر گیری فلسفہ عیدالفطر کا سب سے اہم پہلو ہے۔بالخصوص سال گزشتہ کی ہمہ گیر احتجاجی تحریک کے دوران متاثر ہوئے افراد کے اعلاج و معالجے کیلئے اُن کی حتی الامکان معاونت کرکے اپنی دینی مسولیت اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ثواب ماہ رحمت سے مستفید فرمائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴