اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چار نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی پارلیمنٹ پر مامور سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر کے متعدد افراد کو شہید اور زخمی کردیا جبکہ مرقد امام خمینی رہ میں بھی تین مسلح افراد نے حملہ کر کے کئی افراد کو زخمی کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے سیکورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں کئی اہلکار شہید اور زخمی ہوگئے۔
سیکورٹی اہلکاروں نے پارلیمنٹ کے اندر سے ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔





دوسری جانب مرقد امام خمینی رہ میں تین مسلح افراد نے حملہ کیا جن میں ایک دھشتگرد خاتون تھی۔
خاتون دھشتگرد کو سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا جبکہ دوسرے دو دھشتگردوں میں سے ایک نے خود کشی کر لی اور دوسرے کو سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا۔




اطلاعات کے مطابق، لیبیا کے دھشتگرد ٹولے داعش نے تہران میں دھشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اپڈیٹ
ایران کی وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق بدھ کے روز تہران میں ہونے والے دونوں دہشت گردانہ حملوں کا خاتمہ ہو گیا ہے اور صورت حال مکمل طور پر پولیس اور سیکورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔
وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی دو ٹولیوں نے بدھ کے روز بیک وقت، اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی رح کے مزار اور پارلیمنٹ سیکریٹریٹ پر اندھا دھند حملہ کر کے ایران میں موجود امن و امان کی صورت حال پر اثرانداز ہونے کی ناکام کوشش کی۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دو دہشت گرد امام خمینی رح کے مزار کے احاطے میں داخل ہوئے جن میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ دوسرا سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ چار دہشت گردوں کی دوسری ٹولی نے پارلیمنٹ سیکریٹریٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم اسے سیکورٹی اہلکاروں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان کے مطابق ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تین دوسرے دہشت گرد پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کی بالائی منزل پر پہنچنے کی کوشش میں سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئے۔
ایران کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے دونوں واقعات میں بارہ افراد شہید اور بیالیس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲