اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد()المہدی سینٹر جامشورو سے اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی تعلیم و تربیت سیکرٹری محدثہ رضا نے روح اللہ موسوی الخمینی کی 28 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ امام راحل کی فکر آفاقی فکر تھی، ان کی فکر کسی خاص مکتب اور علاقہ تک مخصوص نہیں تھی۔ اسی لئے دنیا بھر کے مستضفین، مظلومین اور حریت پسند امام خمینی کی فکر پر عمل پیرا ہیں، امام خمینی نے اسلام کے حقیقی چہرہ کو دنیا میں نمایاں کیا۔ انقلاب اسلامی سے قبل اسلام کو ایک مخصوص فکر تک محدود کیا گیا تھا، امام نے لوگوں تک حقیقی اسلام ناب محمدی کے پیغام کو پہنچایا اور دنیا بھر کے مذاہب کو بھی فکر دی کہ آفاقی اور حقیقی اسلام کی تعلیمات کو اپنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ خمینی کی نہضت، نہضت انبیا و نہضت ائمہ کرام کا تسلسل ہے، امام نے دنیا بھر کے مستضفین و مظلومین کو استعمار دشمنی سے آگاہ کیا،ڈھائی سو سالہ شہنشاہیت کے بت کو پاش پاش کرکے یہ ثابت کیا کہ خدا پر کامل یقین کی بدولت وقت کے فرعون کو مغلوب کیا جاسکتا ہے، اس لئے امام کی فکر ہم سے استعمار دشمنی کو جاری رکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔جب بھی حریت پسند اور انقلابی قوموں کی زندگیوں میں انقلاب رونما ہوتے ہیں، ان واقعات کے پس منظر میں نظریات و شخصیات کا عمل و دخل ہوتا ہے، کچھ شخصیات علاقہ یا ملک تک محدود نہیں بلکہ جن کے اثرات عالمی سطح پر ہوتے ہیں۔ امام خمینی نے جو انقلاب برپا کیا جو صرف ایک خطہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں مظلومین و مستضفین کی امید کا مرکز ہے، امام خمینی ایک جہد مسلسل کا نام ہے، امام نے اپنی نہضت، اپنا وظیفہ سمجھتے ہوئے وقت کے یزیدوں کے خلاف قیام کیا، امام خمینی نے 1963 اور بعد میں ہونے والی سازشوں اور مشکلات کے باوجود اپنی حجت کو تمام کرکے یہ ثابت کیا کہ کسی بھی دور کا حسینی وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ اسی فکر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے یمن، فلسطین، عراق، شام، لبنان اور دنیا بھر کے دیگر مستضفین و مظلومین نے استعمار و استکباری طاقتوں کے خلاف قیام کیا اور اسلام کے حقیقی، واضح اور روشن چہرہ کو نمایاں کیا، امام خمینی کی انقلابی تحریک کی بدولت دنیا بھر کے مظلوم و مستضفین کو تحرک ملا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲