28 مئی 2017 - 11:45
صدر روحانی کی امیر قطر سے ٹیلیفونی گفتگو، امن قائم رکھنے کے لیے خطی ممالک سے باہمی تعلقات ناگزیر

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کے لئے خطی ممالک کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے صدر نے قطری امیر کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں فرقہ واریت کی لعنت کو علاقائی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں موجود ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینا اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجی پالیسی کی اہم ترجیح ہے.

یہ بات صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے گزشتہ روز قطر کے امیر 'شیخ تمیم بن حمد آل ثانی' کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں امن اور سلامتی کو قائم رکھنے کے لئے خطی ممالک کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے.

حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے لئے پرعزم ہے اور خلیج فارس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کا تسلسل ایرانی خارجی پالیسی کی اہم ترجیح ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم مستحکم عزم کے ساتھ موجودہ رکاوٹوں کو دور اور برادری تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں اور علاقائی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے سے منسلک اور متاثر ہوتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام ممالک کے درمیان اعتدال پسندی اور عقلانیت کی حکمرانی کو جاری رکھنے کا چاہتے ہیں اور سیاسی حل کی ایک ترجیح ہونا چاہئے.

ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں بحرانوں کے حل کے لئے علاقائی ممالک کے درمیان مذاکرات کا تسلسل ناگزیر ہے اور ہم اس حوالے سے باہمی تعاون کے لئے تیار ہیں.

روحانی نے کہا کہ اسلامی دنیا فرقہ واریت کے بحران کا شکار ہے اور ہم اسلامی دنیا امن اور برادری راستے میں قدم رکھنا اور اس بات پر اتفاق تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں.

ایرانی صدر نے خطے میں دہشتگردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی علاقے اور ہم سب کی سلامتی کے لئے خطرہ ہو سکتا اور اس سے مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ باہمی تعاون ہے.

قطری امیر نے ڈاکٹر روحانی کو دوسری بار 12ویں صدارتی انتخابات جیتنے اور ماہ رمضان کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان دیرینہ تعلقات جاری ہے اور ہم دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہیں.

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ایران اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوطی کے لئے کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے.

انہوں نے خطے میں مسائل اور مشکلات کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف مکالمہ اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل اور بحران کا حل کیا جا سکتا ہے اور قطر کے ذریعہ خلیج فارس کے ساحلی ریاستوں کے درمیان منعقد ہونے والے مکالمہ مضبوط ہونا چاہیئے.

انہوں نے کہا کہ قطری حکام کو تہران اور دوحہ کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کی ترقی دینے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہیئے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲