اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جوہری معاہدے کی بدولت موجودہ ایرانی حکومت نے 11 ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے جس میں سے اب تک 3 ارب ڈالر سے زائد ملک کے اندر لگائے جاچکے ہیں.
جوہری معاہدے سے پہلے یعنی 2012 میں غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح 4 ارب اور 70 کرور تھا جو اس عالمی معاہدے کے بعد اور موجودہ حکومت کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پوری دنیا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی تعاون کا خیرمقدم کرکے اور اس رقم 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی.
ایرانی غیرملکی سرمایہ کاری تنظیم کے مطابق غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں ایران کے صوبے خراسان شمالی تین ارب اور 37.8 کرور ڈالر کے ساتھ پہلی پوزیشن اور صوبے مشرقی آذربائیجان 1.5 ارب ڈالر کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرلی اور اصفہان، تہران اور سیستان و بلوچستان کے صوبوں ایک ارب ڈالر تک غیرملکی سرمایہ کاری لا سکیں.
ابھی صورتحال میں جوہری معاہدے کے بعد آرمینیا، سپین، افغانستان، جرمنی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، آئر لینڈ، بیلاروس، ترکی، بارباڈوس، آذربائیجان، چین، روس، سری لنکا، عراق، عمان، فرانس، قبرص، کویت، ملائیشیا، ہالینڈ، بھارت اور وینیزوئلا اسلامی جمہوریہ ایران میں سرمایہ کاری کرتے ہیں.
نائب ایرانی وزیر اقتصاد ' محمد خزاعی ' نے کہا کہ بینکاری نظام کے ذریعے گزشتہ سال کے دوران ملک میں تین ارب اور 1.24 کرور سے زائد غیرملکی سرمایہ کاری انجام پا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی کامیابیوں میں سے ایک ایران فوبیا کے خاتمہ اور ایران میں سرمایہ کاری کے لئے غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲