اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کراچی؛ شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے انچولی سوسائٹی میں خرم زکی کی پہلی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خرم زکی کی شہادت کو گزرے ایک سال بیت گیا ہے لیکن اب تک قاتلون کی عدم گرفتاری سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے خرم زکی کا خاندان انصاف کا منتظر ہے اور جن افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا اُن کا گرفتار نہ ہونا کمزوری کی نشانی ہے ایک طرف تو دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں اور دوسری طرف شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری قابل تشویش عمل ہے ہم گورنر سندھ ،وزیرا علی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ملزم کو اپنی صفوئی کا بھرپور موقع دیا جائے یہ اُس کا آئینی اور قانونی حق ہے کئی ماہ سے نوجوان لاپتہ ہیں نہیں معلوم کہ اُن کا جرم کیا ہے لہذا اگر مجرم ہیں تو اُن کو بتایا جائے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرائی جائے یہ اُن کا قانونی حق ہے اس طرح کے اقدامات سے رینجرز کا عمل یا رینجرز کا کردار متنازع ہوتا نظر آرہا ہے ہم نے نہ ماضی میں کبھی مجرموں کی پشت پناہ کی تھی اور نہ آج کرتے ہیں ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اہل خانہ کو اعتماد میں لیا جائے تا کہ ملت تشیع میں ہونی والی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲