اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران میں آئندہ ہونے والے 12ویں صدارتی انتخابات کے 6 امیدواروں کے درمیان مشترکہ انتخابی مناظرے کا دوسرا مرحلہ گزشتہ روز قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا جس میں امیدواروں نے سیاسی اور ثقافتی مسائل کے مختلف پہلووں پر اپنی رائے اور آئندہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی.
** اسحاق جہانگيري
ايراني صدارتي انتخابات كے اميدوار جہانگيري نے تعليم اور سائنس كے بارے ميں كہا كہ تعليم پر سنجيدگي سے توجہ دينا، تعليم اور اساتذہ كے ذريعہ معاش كي تبديلي ملك ميں سائنس كي ترقي كے دوبنيادي عنصر ہے اور آج اساتذہ، معاشرے ميں سب سے زيادہ با اثر لوگوں ہيں اسي لئے ان كے ذريعہ معاش كو بہتر بنانا ضروري ہے.
جہانگيري نے ايراني يونيورسٹي كي اہميت كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ يونيورسٹي ايك محفوظ ماحول ہونا چاہيئے كيونكہ ملك كي سائنس اور ٹيكنالوجي كي ترقي كا مركز يونيورسٹي ہے اور يونيورسٹيوں اور صنعتي مراكز كو باہم منسلك كرنا نہايت اہم ہے.
انہوں نے نقد اور اس كي اہميت كے حوالے سے بتايا كہ ايراني گيارھويں حكومت كي اہم كاموں ميں سے ايك 8 ہزار غيرسركاري تنظيم كا لائسنس جاري كرنا، سوشل نيٹ وركنگ كي سرگرمي اور معلومات تك رسائي كا قانون كي منظوري ہے.
جہانگيري نے جوہري معاہدے كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كي سب سے بڑي كاميابي جوہري معاہدہ ہے اور اپنے تمام مقاصد كو حاصل كرسكيں، ظالمانہ پابنديوں اور ايران فوبيا كا خاتمہ ہوچكا اور امريكہ كي خلاف ورزي كا بھرپور جواب ديں گے.
ايراني صدراتي اميدوار نے كہا كہ خارجي پاليسي ميں ملك كي تمام صلاحيتوں كے استعمال كرنا ضروري ہے اور وزارت خارجہ كو ايران كي سلامتي اور قومي مفادات كے مطابق خارجہ پاليسي پر عملدرآمد كرنا چاہيئے اور سركاري سفارتكاري كے علاوہ عوامي سفارتكاري پر توجہ دينا ضروري ہے.
انہوں نے كہا كہ ايراني فنكاروں، كيھلاڑيوں بين الاقوامي ميدانوں ميں اپني كاميابيوں كے ساتھ ايران كے فخر كا باعث ہيں اور ہمارے ملك اور دوسرے ممالك كے درميان سياحتي شعبے كو فروغ دينا پہلي ترجيح ہے اور اسلامي جمہوريہ ايران كي نرم طاقت قومي اتحاد، طاقت اور اقتصادي طاقت ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ مختلف ثقافتوں اور زبانوں ايران ميں نسلي تنوع پيدا كرتا ہے اور ايراني حكومت كے مطابق ہر قوم كو اپني آبائي زبان كو محفوظ كرنا ہے.ايراني، اسلامي ثقافت قومي طاقت كا ايك اہم حصہ ہے اور ہم اپني ثقافتي طاقت كے ساتھ بين الاقوامي اور ملك كے اندروني مسائل كو حل كرسكتے ہيں.
** حسن روحاني
حسن روحاني نے كہا كہ اخلاقيات، ملك ميں ثقافت اور تعليم كي ترقي كي بنياد ہے اور صلاحيتوں سے صحيح استعمال كرنا لازم ہے اور ہميں اپنے سياسي اور معاشرتي مقاصد حاصل كرنے كے لئے مختلف رائے كو تسليم كرنا چاہئے.
انہوں نے جوہري معاہدے كے حوالے سے كہا كہ اس معاہدے كے ذريعہ ايران كے خلاف تمام پابندياں خاتمہ اور ٹيكنالوجي كے شعبے ميں بہتري حاصل ہو رہا ہے اور كوئي ايراني جوہري سائنسدان بے روزگار نہيں ہوگيا اور اچھے طريقے سے اراك ري ايكٹر كي بحالي ہوتا ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ دستخط ہونے والے عالمي جوہري معاہدہ چھ بين الاقوامي طاقتور ممالك كے ساتھ اسلامي جمہوريہ ايران كي سفارتي طاقت كي نشاني ہے اور ايسي طاقت كے ذريعہ شامي بحران كے حل كے لئے مذاكرات كرسكتے ہيں.
ايراني صدارتي اميدوار نے كہا كہ ايراني طاقت؛ فوجي، اقتصادي، خارجي اور ملكي پاليسي اور ثقافتي طاقت كے شامل ہے اور اسلامي جمہوريہ ايران خطے ميں ايك طاقتور ملك ہے اور آج ملك ميں تين ہزار تعليمي كمپني سرگرم عمل ہيں اور دو گزشتہ سال كے دوران 2 لاكہ روزگار فراہم ہوگيا جو تكنيكي طاقت كي علامت ہے.
روحاني نے ثقافت اور طرز زندگي كي اہميت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ اس كے حوالے سے سنجيدہ اقدامات كي جاتي ہے اور ہم متحد ہونے كے ساتھ تمام شعبوں ميں كامياب ہوسكتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ آج تمام ايرانيوں مستقبل كے لئے اميد ركھتے ہيں اور ہم اميد كے راستے كو جاري اور ايراني قوم كے لئے جوہري معاہدے كے نفاذ كے علاوہ غيرملكي سرمايہ كاري، ٹيكنالوجي اور سنجيدہ منيجمينٹ فراہم كريں گے.
** سيد ابراہيم رئيسي
انہوں نے ملك كي ضروريات كے مطابق اساتذہ اور طالب علموں كي منظوري كي منصوبہ بندي پر زور ديتے ہوئے كہا كہ تعليمي پابنديوں نے اقتصادي پابنديوں سے زائد ہماري يونيورسٹيوں كو متاثر كيا ہے اور ابھي صورتحال ميں ليبوريٹري كي مصنوعات موجود نہيں ہے اور يونيورسٹي سے فارغ التحصيل ہونے والے طلباء كے بے روزگاري اورمعلمين كے طرز معاش كي دشواري ملك كي سائنسي ترقي كو كم كرنے كي بنيادي وجہ ہے.
علامہ رئيسي نے نقد كي اہميت كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ شہريت كے حق كے تحت لوگ اپنے الفاظ كو كہہ سكتے ہيں اور ان كو جواب دينا چاہيئے اور فرد، معاشرے اور حكومتوں كي
راستي كو يقيني بنانا تنقيد ہے اور حقوق شہريت يعني حق ركھنا، استعمال، ذريعہ معاش اور بے روزگاروں كے روزگار حاصل كرنا ہے.
انہوں نے جوہري معاہدے كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور دوسرے ركن ممالك كي جانب سے يہ عالمي معاہدے كي تسليم كرنا ضروري ہے اور ہم نہ صرف جوہري معاہدے كي خلاف ورزي نہيں بلكہ ہميشہ ان كے مطابق عمل كررہے ہيں اور تمام فريقين كو اس پر عملدرآمد كرنا چاہيئے.
انہوں نے مزاحمت كي معيشت اور اقتصادي سفارتكاري كو ملك كي پہلي ترجيح قرار ديتے ہوئے كہا كہ ايران كي پيداوار كرنے والي مصنوعات كے لئے برآمدات كي منڈيوں كي فراہمي نہايت اہم ہے اور خارجي پاليسي اور اقتصادي سفارتكاري كو غربت، بے روزگاري اور دوسرے مسائل كو حل كرنا چاہيئے اور دوسرے ممالك ميں ايراني شہريوں كے حقوق اور ان كے ويزے پر احترام كرنا ہماري ذمہ داريوں ميں سے ايك ہے.
ايراني صدارتي اميدوار نے كہا كہ قومي سلامتي كا اہم عنصر ايراني بہادر لوگ ہيں اور اگر مسلح افواج اور بسيج اور مدافع حرم كے فوجيوں نہيں ہوئے تو اسلامي جمہوريہ ايران ميں اقتصادي، معاشرتي اور ثقافتي امن اور سلامتي موجود نہيں ہوگا.
انہوں نے كہا كہ زيادہ سے زيادہ وسائل پيدا كرنا اور مناسب طريقے كے استعمال، عمران اور قدرت كي خوشحالي، اتحاد، يكجہتي، قرباني اور مغفرت اسلامي زندگي كا اہم عنصر ہے.
** محمد باقر قاليباف
قاليباف نے ملك كي سائنسي پوزيشن كي ترقي اور تعليمي صلاحيتوں سے استعمال كرنے كے لئے لوگوں كو بااختيار بنانا اور عوامي اداروں كے ذريعہ ان كے كردار كا ادا كرنے پر زور ديا گيا.
انہوں نے كہا كہ اجتماعي حكمت عملي اور تنقيد كے مطابق عمل كرنے كے ساتھ ايراني معاشرہ كامياب ہوسكتا ہے اور تمام ايراني قوموں اور مختلف مذاہب حقوق شہريت كے صاحب ہيں اور ميرٹ كي بنياد پر ان كے استعمال كرنا چاہيئے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ تمام ممالك اور فريقين جوہري معاہدے كے مطابق عمل كريں گے اور جوہري معاہدے ايران كو يورپي درآمدات كا مركز بن رہا ہے.
انہوں نے كہا كہ سفارتكاري شعبے ميں سفارتي طاقت، سفارتي مذاكرات، عوامي اور اقتصادي سفارتكاري پر توجہ دينا ناگزير ہے اور وزارت خارجہ كو علاقائي اور ہمسايہ ممالك كے ساتھ مناسب اقتصادي سفارتكاري برقرار اور درآمدات كے رويے كو برآمدات پر بدل جانا چاہئيے.
قاليباف نے كہا كہ اگر سفارتي طاقت موجود نہيں دفاعي شعبے ميں سائنسي ترقي اور كبھي بھي مذاكرات نہيں كرسكتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ دولت كي جانب سے ايراني عوام پر اعتماد كرنا ضروري ہے اور لوگ كو ثقافتي فيصلہ كرنا چاہيئے.
** سيد مصطفي مير سليم
انہوں نے كہا كہ ملك ميں جمود اور مہنگائي كے خاتمے كے لئے مسائل كي شناخت كے حوالے سے تحقيق كو مضبوط كرنا ناگزير ہے.
ميرسليم نقد كو اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ قومي اتحاد اور ارادے كو مستحكم كرنے كے لئے متضاد خيالات اور نقد كرنا ضروري ہے اور تنقيد كے بغير كوئي كاميابي حاصل نہيں ہوسكتا ہے اور حكومت كي اہم ذمہ داري ايراني عوام كے لئے معلومات كي تك سرائي حاصل كرنا ہے.
انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدہ دنيا بھر ميں اسلامي جمہوريہ ايران كي مظلوميت كي نشاندہي كررہا ہے اور ہم نہ صرف جوہري ہتھياروں كي پيدا كرنا نہيں چاہتے بلكہ ان كے پرامن استمعال كرنے كا مطالبہ كرتے ہيں اور جوہري معاہدے كے كوئي فريقين نے اس كے مطابق عمل نہيں اور ان كي خلاف ورزي كيا ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ خارجي پاليسي صرف مذاكرات ميں شركت كرنا نہيں ہے بلكہ اپنے حق كو حاصل كرنا ہے.
ميرسليم نے كہا كہ سامان، معلومات اور سائنسي كي ترقي كے ذريعہ ہماري طاقت اور دفاعي صلاحيتوں كو فروغ دے سكتے ہيں اور حكومت كي حمايت كے ساتھ راكٹ ايندھن، تعمير، اليكٹرانك نيويگيشن كي مضبوط ہونا چاہيئے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايراني طرز زندگي اسلامي طرز زندگي كے مطابق ہونا چاہيئے طلاق، كشيدگي اور فضول خرجي كو كم كرنا اسلامي تعاليم كے مطابق ہے.
** سيد مصطفي ہاشمي طبا
ہاشمي طبا نے كہا كہ اگر 1404 اور يونيسكو كے 2030 كے معاہدے پر عملدرآمد ہوئے تو ايراني سائنس كے ادارے كو فروغ مل سكتا ہے اور يونيورسٹيوں كے تعليم حاصل كرنے اراكين كے اصلي كردار تعليم و تربيت ہے اور سركاري اخراجات ميں اضافہ ہونا معلمين كے ذريعہ معاش كے اصلي مسائل ميں سے ايك ہے.
انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدہ كچھ مسائل كے شامل ہے مگر كوئي فريقين اس كي خلاف ورزي نہيں كرنا چاہيئے اور ايران اس پر عملدرآمد كرتا ہے.
ايراني صدارتي اميدوار نے كہا كہ خارجي پاليسي كي اہم ترجيح دہشتگردوں سے مقابلہ كرنا، اسلامي جمہوريہ .ايران كے وقار كو محفوظ كرنا اور دوسرے ممالك اور حكومتوں كے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم كرنا ہے اور ثقافتي مواصلات اسلامي تاريخ اور تعليمات كے مطابق ہونا چاہيئے.
انہوں نے خطرہ ڈالنے والے علاقائي ممالك كے بارے ميں كہا كہ ہم اپني ثقافتي، مشاركتي اور دوستانہ مدد كے ساتھ ان كي صلاحيت كو فروغ دے سكتے ہيں.
انہوں نے مزيد كہا كہ ايران كي سلامتي اور امن تحميلي جنگ كے شہدا اور شہدائے حرم كے ذريعہ سے حاصل ہوگيا ہے اور ترقي كے چھٹے پروگرام كو ايران كے تمام مسائل كے حل كے لئے كوشش كرنا چاہيئے.
ہاشمي طبا نے كہا كہ معاشرے ميں ايمانداري اور سالميت مناسب طرز زندگي كا اہم حصہ ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲