3 مئی 2017 - 12:53
ایران کی چین کو برآمدات کی سطح ۱۴ ارب ڈالر تک پہنچ گئی

جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد ایران اور چین کے درمیان سمندری راستے سے مصنوعات کی منتقلی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اسی دوران ایران کی چین کو برآمدات کی سطح 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد ایران اور چین کے درمیان سمندری راستے سے مصنوعات کی منتقلی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اسی دوران ایران کی چین کو برآمدات کی سطح 14 ارط ڈالر تک پہنچ گئیں.

تفصيلات كے مطابق، ايران جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد چيني كشتيوں كي ايراني بندرگاہوں ميں آمد ميں دوگنا اضافہ ہوگيا ہے.

جوہري معاہدے كے بعد ايران ميں سمندري ٹرانسپورٹيشن اور شپنگ شعبوں ميں قابل قدر ترقي ريكارڈ كي گئي ہے جبكہ چين كي عمان سے زيادہ ايراني بندرگاہوں ميں دلچسپي ميں اضافہ ہوا ہے.

موجودہ ايراني حكومت كي كاميابيوں ميں سے ايك پابنديوں كے خاتمے كے بعد 43 ارب اور 72.7 كرور ڈالر چيني مصنوعات كي درآمد كرنا ہے.

اسلامي جمہوريہ ايران كي بحريہ اور پورٹ ادارے كے مينيجنگ ڈائريكٹر ' محمد سعيد نژاد ' نے كہا كہ ايران كے خلاف پابنديوں كے خاتمے كے بعد 18 بين الاقوامي شپنگ كمپني كي جانب سے مصنوعات براہ راست ايران كو درآمد اور اس بحري جہازوں ايراني بندرگاہوں پر لنگر انداز كررہے ہيں.

سعيد نژاد نے كہا كہ ايراني گيارھويں حكومت كے دوران چين كو 32 ارب اور 45.2 كرور ڈالر ايراني غير تيل مصنوعات برآمد كررہا ہے جو گذشتہ دسويں حكومت كے مقابلے ميں 13 ارب اور 68.5 كرور ڈالر تك اضافہ ديكھنے ميں آيا ہے.

تفصيلات كے مطابق گذشتہ سال كے دوران اسلامي جمہوريہ ايران نے چين كو روزانہ 62.4 لاكھ اور 260 بيرل تيل كي برآمد كيا ہے جو يہ جوہري معاہدے، تيل، بينكاري اور شپنگ ركاوٹوں دور كرنے كي كاميابيوں ميں سے ايك ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲